World
تیونس میں جاری حکومت مخالف مظاہرے اور معاشی بحران
تیونس میں خراب معاشی صورتحال کے باعث عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور حکومت کے خلاف مسلسل دوسرے ماہ احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین کی جانب سے معیشت کی بحالی اور فوری اصلاحات کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
شمالی افریقی ملک تیونس میں گزشتہ دو ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس نے ملک کی داخلی سیاسی و معاشی صورتحال کو شدید غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ تیونس کی سڑکوں پر جمع ہونے والے مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت تیزی سے گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لیے ٹھوس اور فوری اقدامات اٹھائے۔ مہنگائی کی بلند ترین شرح، بے روزگاری میں اضافے اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت نے عام آدمی کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کا غصہ سڑکوں پر نمودار ہو رہا ہے۔
ملکی معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے مختلف شعبہ ہائے زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کاروباری طبقہ، مزدور اور نوجوان بڑی تعداد میں ان مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیاں ملک کو دیوالیہ پن کی جانب لے جا رہی ہیں۔ تیونس کی معیشت، جو پہلے ہی کورونا وائرس کے اثرات اور عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا شکار تھی، اب اندرونی سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے مزید دباؤ کا شکار ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے سخت شرائط اور قرضوں کے حصول میں دشواری نے بھی حکومتی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے جلد ہی کوئی جامع معاشی اصلاحاتی پیکیج پیش نہ کیا تو ان مظاہروں کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ تب تک اپنے مطالبات پر قائم رہیں گے جب تک کہ انہیں مہنگائی سے نجات اور روزگار کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے۔ دارالحکومت تیونس سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے، تاہم عوام کا مطالبہ ہے کہ سیاسی قیادت کو زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے عوامی مفاد میں فوری فیصلے کرنے ہوں گے تاکہ ملک کو مزید افراتفری سے بچایا جا سکے۔