World
اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی طالبان کی قید سے رہائی
افغانستان کے مغربی شہر ہرات سے اگست کے مہینے میں گرفتار کیے گئے اقوام متحدہ کے دو اہلکاروں کو بالآخر رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ دونوں اہلکار طویل عرصے سے طالبان کی تحویل میں تھے جس کے بعد اب ان کی رہائی عمل میں آئی ہے۔
افغانستان کے مغربی شہر ہرات سے تعلق رکھنے والی ایک اہم خبر کے مطابق، طالبان حکام نے اقوام متحدہ کے ان دو اہلکاروں کو رہا کر دیا ہے جنہیں گزشتہ ماہ اگست کی 9 تاریخ کو حراست میں لیا گیا تھا۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والی ان گرفتاریوں کے بعد جمعرات کی صبح ان دونوں افراد کی رہائی عمل میں آئی، جس کے بعد سے بین الاقوامی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اس واقعے نے افغانستان میں انسانی امداد فراہم کرنے والے کارکنوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے تھے۔
واضح رہے کہ اگست کے اوائل میں جب ان اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا تھا تو اقوام متحدہ کے حکام نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور طالبان انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے تھے۔ اس دوران یہ معاملہ عالمی سفارتی سطح پر بھی زیر بحث رہا، جہاں مختلف ممالک نے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ امدادی کارکنوں کی گرفتاریاں انسانی ہمدردی کے کاموں میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہیں۔ حکام کے مطابق دونوں افراد کی رہائی مذاکرات اور پس پردہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
ابھی تک طالبان کی جانب سے ان دونوں افراد کی گرفتاری کی وجوہات کے حوالے سے کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی رہائی کے شرائط پر کوئی روشنی ڈالی گئی ہے۔ تاہم ہرات میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اہلکار اب اپنے متعلقہ حکام کے پاس پہنچ چکے ہیں اور خیریت سے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے والے عملے کی حفاظت اور ان کی آزادی کو اپنی اولین ترجیح دیتا ہے تاکہ عوام تک امداد کی فراہمی میں کوئی تعطل نہ آئے۔
اس پیش رفت کو افغانستان میں بین الاقوامی تنظیموں کے کام کرنے کے ماحول کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ طالبان کی جانب سے ان اہلکاروں کی رہائی کو ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں موجود امدادی ایجنسیاں اپنے فرائض بغیر کسی خوف و خطر کے انجام دے سکیں۔ عالمی برادری اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا طالبان حکومت مستقبل میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی امدادی عملے کے تحفظ کے لیے مزید کیا اقدامات اٹھاتی ہے۔