World
امریکہ کی جانب سے 2300 میکسیکن شہریوں کی گواتیمالا ڈیپورٹیشن، میکسیکو کا شدید ردعمل
امریکی انتظامیہ نے غیر قانونی مہاجرت کی روک تھام کے لیے تیسرے ممالک میں ڈیپورٹیشن کی پالیسی کو تیز کر دیا ہے۔ میکسیکو کی شدید مخالفت کے باوجود امریکہ نے تقریباً 2300 میکسیکن شہریوں کو گواتیمالا منتقل کر دیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی انتظامیہ نے ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے اور سرحدی کنٹرول کو سخت بنانے کے لیے ایک انتہائی متنازع اور سخت پالیسی کے تحت تقریباً 2300 میکسیکن شہریوں کو گواتیمالا ڈیپورٹ کر دیا ہے۔ یہ قدم میکسیکن حکومت کے شدید اعتراضات اور سفارتی تحفظات کے باوجود اٹھایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ تارکین وطن کو ان کے اپنے ملک کے بجائے کسی تیسرے ملک میں منتقلی سے سرحد پر غیر قانونی آمد کی حوصلہ شکنی ہوگی، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، امریکی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اس سخت مہم کا مقصد بارڈر پر دباؤ کو کم کرنا اور مہاجرت کے خواہشمند افراد کے لیے سخت پیغام بھیجنا ہے۔ تاہم، میکسیکو کی حکومت نے اس عمل کی شدید الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اپنے شہریوں کو کسی تیسرے ملک بھیجنا بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ میکسیکن حکام نے واضح کیا کہ ان کے شہریوں کی واپسی براہ راست اپنے ملک ہونی چاہیے نہ کہ کسی ایسے ملک میں جہاں ان کے لیے قانونی اور معاشی تحفظ کے مسائل موجود ہوں۔ بین الاقوامی ماہرین اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گواتیمالا جیسے ملک میں ہزاروں میکسیکن شہریوں کو منتقل کرنے سے وہاں کے مقامی بنیادی ڈھانچے اور سیکیورٹی پر مزید دباؤ پڑے گا۔ ڈیپورٹ کیے گئے افراد کو روزگار، رہائش اور قانونی تحفظ کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق امریکی انتظامیہ کا یہ اقدام بین الاقوامی معاہدوں اور پناہ گزینوں کی حفاظت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ دوسری جانب، امریکی حکام اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے ملکی سیکیورٹی اور سرحدی قوانین کی پاسداری کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت اور غیر قانونی راستوں کو بند کرنے کے لیے اس قسم کی تمام قانونی اور انتظامی تدابیر جاری رکھیں گے۔ اس تنازع نے نہ صرف امریکہ اور میکسیکو کے سفارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی امریکی ہجرت کی پالیسیوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔