Business
اکنامک ٹائمز اسٹارٹ اپ ایوارڈز 2026: نامزدگیوں کا تفصیلی اعلان
دی اکنامک ٹائمز اسٹارٹ اپ ایوارڈز کے 12 ویں ایڈیشن کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور منتظمین نے دو اہم کیٹیگریز کے نامزد امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ ان کیٹیگریز میں وومن اہید اور سوشل انٹرپرائز شامل ہیں جن کا مقصد خواتین کی قیادت اور سماجی خدمات کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کو سراہنا ہے۔
دی اکنامک ٹائمز اسٹارٹ اپ ایوارڈز (ETSA) کے 12 ویں ایڈیشن کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں اور ای ٹی ٹیک ٹیم پچھلے چند ماہ سے اس اہم تقریب کو باوقار اور یادگار بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ اس سالانہ ایوارڈز کی تقریب کے ذریعے جدید سوچ کے حامل کاروباری افراد، نڈر قیادت اور انقلابی اختراعات کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ منتظمین کی جانب سے مرحلہ وار مختلف کیٹیگریز کے نامزد امیدواروں کے نام سامنے لائے جا رہے ہیں تاکہ نئے کاروباری تصورات کو عوامی سطح پر پذیرائی مل سکے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج دو انتہائی اہم اور اثر انگیز کیٹیگریز یعنی 'وومن اہید' اور 'سوشل انٹرپرائز' کے لیے نامزد امیدواروں کی فہرست کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ دونوں کیٹیگریز بزنس کی دنیا میں مثبت تبدیلی، مساوات اور سماجی بہبود کے لیے کام کرنے والے اداروں اور شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ 'وومن اہید' کیٹیگری کا بنیادی مقصد ان خواتین کاروباری رہنماؤں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جنہوں نے تمام تر چیلنجز کے باوجود کاروباری دنیا میں کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑے ہیں اور دیگر خواتین کے لیے مشعل راہ بنی ہیں۔ اس کیٹیگری میں شامل نامزدگیوں سے واضح ہوتا ہے کہ تکنیکی و کاروباری شعبوں میں خواتین کی قیادت کس طرح تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے اور وہ معاشی ترقی میں پیش پیش ہیں۔ دوسری جانب 'سوشل انٹرپرائز' کیٹیگری کے تحت ان اداروں اور اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو منافع کمانے کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کے حل اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال کر رہے ہیں۔ ای ٹی ٹیک کے مطابق ان تمام نامزدگیوں کا جائزہ ایک اعلیٰ سطح کی جیوری کرے گی جو کاروباری کامیابی، اثر انگیزی اور مستقبل کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی فاتحین کا انتخاب کرے گی۔ ایوارڈز کی اس تقریب میں ان تمام اداروں کو نہ صرف سراہا جائے گا بلکہ ان کی کامیابی کی کہانیوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ نئے ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس کو بھی تحریک مل سکے۔