LIVE
Loading Breaking News...

سیمسنگ کا تکنیکی ڈیٹا چوری کا الزام: چینی چپ ساز کمپنی سی ایکس ایم ٹی پر سابق انجینئر کے سنسنی خیز انکشافات

News Image
سیمسنگ الیکٹرانکس کے ایک سابق محقق نے انکشاف کیا ہے کہ چینی چپ ساز کمپنی سی ایکس ایم ٹی نے اپنے قیام کے ابتدائی دنوں سے ہی سیمسنگ کے پروسیس ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے ڈی ریم ٹیکنالوجی تیار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ دعویٰ چینی کمپنی کے ان تمام بیانات کی نفی کرتا ہے جن میں اس نے اپنی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر خود ساختہ قرار دیا تھا ۔
جنوبی کوریا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی سیمسنگ الیکٹرانکس کے ایک سابق ریسرچر نے سنسنی خیز گواہی دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی معروف میموری چپ ساز کمپنی چانگ شین میموری ٹیکنالوجیز (سی ایکس ایم ٹی) نے اپنی بنیاد رکھے جانے کے وقت سے ہی ڈی ریم (DRAM) میموری چپس کی تیاری کے لیے سیمسنگ کے حساس پروسیس ڈیٹا کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ سابق انجینئر کے اس بیان نے عالمی سیمیکنڈکٹر انڈسٹری اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ یہ نیا انکشاف چینی چپ ساز کمپنی سی ایکس ایم ٹی کے ان دیرینہ دعووں کے بالکل برعکس ہے جن میں کمپنی ہمیشہ سے یہ موقف اختیار کرتی آئی ہے کہ اس نے اپنی تمام میموری چپس اور ڈی ریم پروڈکٹس کو اپنی ذاتی تحقیق، ترقی اور خود ساختہ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا ہے۔ سابق سیمسنگ انجینئر کے بیان نے اس بات کو تقویت دی ہے کہ چینی کمپنی کی ٹیکنالوجی کی بنیاد جنوبی کوریائی جائنٹ سیمسنگ کی دہائیوں کی محنت اور اربوں ڈالر کے ملکیتی ڈیٹا پر رکھی گئی تھی۔ تکنیکی ماہرین کے مطابق سیمیکنڈکٹر انڈسٹری میں ڈیٹا اور تیاری کے پروسیس کی معلومات کی چوری ایک انتہائی سنگین جرم تسلیم کی جاتی ہے، کیونکہ ڈی ریم چپس کی ساخت اور پروسیس ڈیٹا انتہائی پیچیدہ اور خفیہ ہوتے ہیں۔ اگر یہ انکشافات قانونی کارروائی اور شواہد کی روشنی میں سچ ثابت ہو جاتے ہیں، تو سی ایکس ایم ٹی کو عالمی سطح پر سخت قانونی پابندیوں، تجارتی رکاوٹوں اور بین الاقوامی سطح پر مالی تلافی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی ٹیکنالوجی کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ کیس امریکہ، جنوبی کوریا اور چین کے درمیان جاری سیمیکنڈکٹر اور چپس جنگ کو مزید شدید کر سکتا ہے۔ مغربی اور ایشیائی ممالک تکنیکی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے قانون سازی سخت کر رہے ہیں، اور اس قسم کے انکشافات کے بعد تجارتی اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔