LIVE
Loading Breaking News...

اسٹار لنک کے مقابلے میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا نیا دور: ملٹی کونسٹلیشن دوڑ

News Image
خلائی انٹرنیٹ کی صنعت میں اسپیس ایکس کے اسٹار لنک کا ایک چھتر راج اب ختم ہونے کے قریب ہے کیونکہ دیگر عالمی کمپنیاں بھی اس میدان میں اتر رہی ہیں۔ لو ارتھ آر بٹ سیٹلائٹ مارکیٹ میں ملٹی کونسٹلیشن کی آمد سے عالمی سطح پر تیز ترین اور سستا انٹرنیٹ فراہم کرنے کی دوڑ میں شدید تیزی آ گئی ہے۔
خلائی ٹیکنالوجی اور عالمی کمیونیکیشن کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب رونما ہو رہا ہے، جہاں لو ارتھ آر بٹ (ایل ای او) سیٹلائٹ مارکیٹ اب محض اسپیس ایکس کے اسٹار لنک تک محدود نہیں رہی۔ عالمی مارکیٹ میں اب متعدد دیگر بڑی تکنیکی اور خلائی کمپنیاں بھی اپنے سیٹلائٹ نیٹ ورکس قائم کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں یہ صنعت ملٹی کونسٹلیشن کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اس پیشرفت نے عالمی سطح پر بلاتعطل اور تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کے امکانات کو مزید روشن کر دیا ہے۔ پچھلے چند سالوں کے دوران ایل ای او سیٹلائٹ مارکیٹ پر اسپیس ایکس کا مکمل تسلط رہا ہے، لیکن اب ایمیزون کے پروجیکٹ کائپر، ون ویب اور دیگر یورپی و ایشیائی کمپنیوں کی آمد نے اس میدان کو ایک سخت مقابلے کی شکل دے دی ہے۔ یہ تمام کمپنیاں زمین سے قریب تر مدار میں ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے سیٹلائٹس منتقل کر رہی ہیں تاکہ دور دراز اور دور افتادہ علاقوں میں بھی فائبر جیسی تیز رفتار براڈ بینڈ سروسز فراہم کی جا سکیں۔ اس مقابلے کے باعث سیٹلائٹ کی تیاری اور پرتاب کی لاگت میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ معاشی اور تکنیکی ماہرین کا ماننا ہے کہ ملٹی کونسٹلیشن ماڈل سے صارفین کو نہ صرف سستا اور معیاری انٹرنیٹ ملے گا بلکہ ڈیٹا سیکورٹی اور نیٹ ورک کی پائیداری میں بھی بڑا اضافہ ہوگا۔ جب متعدد سیٹلائٹ نیٹ ورکس خلا میں فعال ہوں گے تو کسی ایک سسٹم کی خرابی کی صورت میں متبادل نیٹ ورکس بلا تعطل خدمات جاری رکھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ، ایئر لائنز، بحری جہازوں اور دفاعی اداروں کے لیے بھی یہ کثیر الجہتی سیٹلائٹ دوڑ انتہائی سود مند ثابت ہو رہی ہے۔ مستقبل کی طرف دیکھیں تو خلائی انٹرنیٹ کی یہ دوڑ صرف تجارتی مقاصد تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ اور ڈیجیٹل تسلط کا نیا میدان بن چکی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک اور نجی شعبے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں کہ وہ خلا سے ڈیٹا ٹرانسمیشن کے اس نئے عالمی نظام میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ آنے والے سالوں میں اس شدید مقابلے کے نتیجے میں عام صارفین کے لیے گلوبل کنیکٹوٹی کے نئے باب کھلیں گے۔