Education
ایچ ون بی ویزا اور امریکی اسکولنگ کا بحران: ایم آئی ٹی ماہر کا انکشاف
میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے معروف ماہر معیشت دارون عجم اوغلو نے کہا ہے کہ ایچ ون بی ویزا پروگرام امریکہ کے کے ٹو ٹوئیلو ایجوکیشن سسٹم کی اصلاح میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ہنر مندوں پر حد سے زیادہ انحصار کی وجہ سے پالیسی ساز اور سیاست دان مقامی تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی اپنی ذمہ داری سے غافل ہو چکے ہیں۔
میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے معروف اور عالمی شہرت یافتہ ماہر معیشت دارون عجم اوغلو نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کا ایچ ون بی (H-1B) ویزا پروگرام ملک کے بنیادی تعلیمی نظام یعنی کے ٹو ٹوئیلو (K-12) اسکولنگ کی بہتری اور اصلاح میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اس ویزا پروگرام کے ذریعے بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہنر مندوں کو باآسانی امریکہ لانے کی سہولت نے امریکی سیاست دانوں اور پالیسی سازوں کو مقامی تعلیمی نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کی محنت اور ذمہ داری سے آزاد کر دیا ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے کروڑوں عام امریکی بچوں کی بنیادی تعلیم اور روشن مستقبل شدید متاثر ہو رہا ہے۔ دارون عجم اوغلو کا کہنا ہے کہ امریکہ کی تعلیم یافتہ قیادت اور سیاسی طبقات اکثر بنیادی اور طویل مدتی مسائل کو حل کرنے کے بجائے عارضی حل تلاش کرتے ہیں۔ ایچ ون بی ویزا کے ذریعے تکنیکی شعبوں کے لیے تیار شدہ ورک فورس فوراً دستیاب ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں حکومت پر مقامی سطح پر سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی جیسے اہم مضامین میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کا دباؤ ختم ہو جاتا ہے۔ اس طرز عمل سے امریکہ کے ناکارہ اور زوال پذیر ہوتے کے ٹو ٹوئیلو اسکولنگ سسٹم کو درست کرنے کی تحریک ختم ہو جاتی ہے۔ ماہر معیشت نے خبردار کیا کہ جب تک امریکی حکومت اپنے مقامی اسکولنگ کے نظام کی بنیادی اصلاح نہیں کرتی اور ہر طبقے کے بچوں کے لیے ایک یکساں اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم نہیں کرتی، اس وقت تک غیر ملکی ہنر مندوں پر امریکہ کا یہ انحصار برقرار رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی طویل مدتی بنیادوں پر امریکی معیشت اور معاشرتی استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے مقامی نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتیں دَب جاتی ہیں اور انہیں بہترین روزگار کے مواقع سے محروم ہونا پڑتا ہے۔