Technology
شیلڈ اے آئی کا نیا ایکس بیٹ ڈرون اور امریکی بحریہ کی جنگی صلاحیت
امریکی دفاعی کمپنی شیلڈ اے آئی کے مطابق ایکس بیٹ ڈرونز کی مدد سے امریکی بحریہ کے آرلے برک کلاس ڈسٹرائرز کو باآسانی جنگی ڈرون ونگز فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ ان ڈرونز کے جدید ڈیزائن کی بدولت ایک ہیلی کاپٹر کی جگہ تین ایکس بیٹ ڈرونز اور ان کا معاون نظام رکھا جا سکتا ہے۔
امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی "شیلڈ اے آئی" (Shield AI) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے تیار کردہ جدید "ایکس بیٹ" (X-BAT) ڈرون فائٹرز امریکی بحریہ کے ہر ڈسٹرائر (تباہ کن جنگی جہاز) کو ایک مکمل فائٹر ڈرون ونگ فراہم کر سکتے ہیں۔ اس پیشرفت سے بحری جنگی حکمت عملی اور امریکی جنگی جہازوں کی فضائی صلاحیتوں میں ایک نیا موڑ آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ڈرونز اپنے جدید ترین ڈیزائن کی بدولت کم سے کم جگہ گھیرتے ہیں اور روایتی جیٹ طیاروں یا ہیلی کاپٹروں کی جگہ آسانی سے تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
شیلڈ اے آئی کا کہنا ہے کہ تین ایکس بیٹ ڈرونز اور ان کے لانچ اینڈ ریکوری سسٹمز (LRVs) کو اتنی ہی جگہ میں رکھا جا سکتا ہے جتنی جگہ ایک روایتی ہیلی کاپٹر یا جنگی طیارہ گھیرتا ہے۔ امریکی بحریہ کے مشہور "آرلے برک کلاس ڈسٹرائرز" (Arleigh Burke-class destroyers) میں ایک فلائٹ ڈیک اور دوہرے ہینگر موجود ہوتے ہیں جو بنیادی طور پر دو MH-60R سی ہاک ہیلی کاپٹروں کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ اس حساب سے اگر ان ہینگرز میں ایکس بیٹ ڈرونز تعینات کیے جائیں تو ایک ہی ڈسٹرائر پر متعدد فائٹر ڈرونز پر مشتمل ایک پورا اسکواڈرن منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ایکس بیٹ ڈرون کی اس لچکدار صلاحیت کی وجہ سے امریکی بحریہ کے درمیانے درجے کے جنگی جہازوں کو بھی اب باقاعدہ فضائی حملے کرنے، جاسوسی کرنے اور دفاعی شیلڈ قائم کرنے کی بہترین صلاحیت حاصل ہو جائے گی۔ ماضی میں اس طرح کی فضائی طاقت صرف بڑے ایئر کرافٹ کیریئرز (طیارہ بردار جہازوں) تک ہی محدود تھی، لیکن اس ٹیکنالوجی سے ہر تباہ کن جہاز خود ایک چھوٹے ایئر کرافٹ کیریئر کے طور پر کام کر سکے گا۔ یہ ڈرونز جدید خودکار ٹیکنالوجی (مصنوعی ذہانت) سے لیس ہیں جو دشمن کے سگنل جامنگ والے ماحول میں بھی خودختاری سے مشن مکمل کر سکتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی بحری جنگوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کا کردار کلیدی ہوگا۔ شیلڈ اے آئی کا ایکس بیٹ سسٹم نہ صرف جگہ کے مسائل کو حل کرتا ہے بلکہ بحری ڈسٹرائرز کی آپریشنل صلاحیت کو بھی کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ بحری بیڑے میں اتنی بڑی تعداد میں ڈرونز کی موجودگی سے دشمن کے دفاعی سسٹمز کو ناکارہ بنانے اور طویل فاصلے تک کارروائی کرنے میں انتہائی مدد ملے گی، جو جدید جنگی حکمت عملی کے عین مطابق ہے۔