World
ٹرمپ کا کم جونگ اون سے تعلقات سے متعلق نیا بیان، بائیڈن اور اوباما کا ذکر
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون امریکی صدور جو بائیڈن اور باراک اوباما کو ناپسند کرتے تھے لیکن ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ ذاتی تعلقات نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اون کے ساتھ اپنے خوشگوار تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما سابق صدر باراک اوباما اور موجودہ صدر جو بائیڈن کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے، تاہم ان کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات انتہائی بہترین رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بات ٹیکنالوجی کی صنعت کے ممتاز رہنماؤں کے ساتھ ایک نشست کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔\n\nڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی دورِ حکومت کی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جو حکمت عملی اپنائی اس کے نتیجے میں خطے میں امن قائم رہا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، میرے اور کم جونگ اون کے درمیان تعلقات بہت اچھے تھے۔ وہ نہ بائیڈن کو پسند کرتے تھے اور نہ ہی اوباما کو، بلکہ وہ کسی کو بھی پسند نہیں کرتے تھے لیکن وہ مجھے پسند کرتے ہیں اور میری ان کے ساتھ بہت اچھی بنتی تھی۔\n\nامریکی صدر کے مطابق شمالی کوریا اور امریکہ کے مابین قائم ہونے والے ان ذاتی اور سفارتی تعلقات نے امریکہ کے علاوہ اس کے علاقائی اتحادیوں، بالخصوص جنوبی کوریا اور جاپان کی سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹرمپ نے موقف اختیار کیا کہ ان کی حکومت نے طاقت اور سفارت کاری کے توازن کے ذریعے عالمی سطح پر امریکی مفادات کا دفاع کیا اور شمالی کوریا جیسے حساس مسئلے پر مثبت پیش رفت کی۔\n\nتجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ان کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ٹرمپ اکثر اپنے بیانات میں کم جونگ اون کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور بات چیت کا حوالہ دیتے ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ ان کے دور میں امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں زیادہ محفوظ تھے اور وہ عالمی تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔