LIVE
Loading Breaking News...

روس کے یوکرین پر تازہ حملے: 17 ہلاکتیں اور تباہ کاریاں

News Image
روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے گردونواح میں کیے گئے شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ صدر زیلنسکی نے ان حملوں کے بعد مغربی ممالک سے فضائی دفاعی نظام کی فوری فراہمی کا مطالبہ دہرایا ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے مضافاتی علاقوں پر روس کی جانب سے کیے گئے شدید میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ مقامی حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا، جس سے شہر کے مختلف حصوں میں شدید تباہی ہوئی ہے۔ کیف کے میئر نے اپنے ایک بیان میں الزام لگایا کہ روسی فوج نے جان بوجھ کر اہم انفراسٹرکچر اور شہری آبادی کو اپنے اہداف کا نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ اپنی شدت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان ہلاکت خیز حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے پیٹریاٹ جیسے جدید فضائی دفاعی نظام کی فراہمی میں تاخیر یوکرینی شہریوں کی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو اپنی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے فوری طور پر مزید جدید دفاعی آلات فراہم کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کو روکا جا سکے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ حملے صرف کیف تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کا دائرہ کار پڑوسی ممالک رومانیہ اور مالدووا کی سرحدوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔ عالمی میڈیا اور خبر رساں اداروں کے مطابق، ان حملوں کی شدت سے نہ صرف یوکرین کے توانائی کے مراکز کو شدید نقصان پہنچا ہے بلکہ رہائشی علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی گئی ہے۔ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں، جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں نے ان تازہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ شہری آبادی کو جنگ کے اثرات سے دور رکھنے کے لیے انسانی قوانین کا احترام کیا جائے۔