Pakistan
بلوچستان کے حالات اور بیرونی پراکسیز پر اہم عسکری و سیاسی ردعمل
چیف آف ڈیفنس فورسز نے بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی تمام بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں صدرِ مملکت اور صوبائی قیادت نے صوبے میں دیرپا امن کے لیے قریبی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز منیر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ دشمن عناصر کی جانب سے بلوچستان کے اندرونی حالات کو خراب کرنے کے لیے بیرونی حمایت یافتہ پراکسیز کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے ان مذموم مقاصد اور سازشوں کو ایک فیصلہ کن اور مؤثر ردعمل کے ذریعے مکمل طور پر شکست دی جائے گی۔ بلوچستان کی بدلتی ہوئی صورتحال اور امن و امان کے امور پر ملک کی اعلیٰ ترین عسکری و سیاسی قیادت کے درمیان بھی اہم مشاورتی دور جاری ہیں۔
دوسری جانب، صدرِ مملکت اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے مابین قریبی اور موثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔ حالیہ دنوں میں صدر مملکت اور بلوچستان کے وزراء کے مابین ہونے والی ملاقاتوں میں بھی سکیورٹی کی مجموعی صورتحال اور ترقیاتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ رہنماؤں کا ماننا ہے کہ باہمی تعاون کے بغیر صوبے سے مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق، دشمن قوتیں پاکستان کے اس اہم خطے میں ترقی کے عمل کو روکنا چاہتی ہیں اور لسانی یا علاقائی بنیادوں پر انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے بھی یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور قومی سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔