LIVE
Loading Breaking News...

آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شامی وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو میں ملاقات

News Image
جی ایچ کیو راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ دفاعی و سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
راولپنڈی میں پاک فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کردہ رسمی بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے متعدد اہم امور، خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی و سیکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مختلف ذرائع پر تفصیلی اور مثبت گفتگو کی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شام کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور تاریخی برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور عالمی امن و علاقائی استحکام کے حوالے سے پاکستان کے واضح نقطہ نظر اور پالیسی سے شامی وفد کو آگاہ کیا۔ آرمی چیف نے مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں کی اشد ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر معزز شامی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں استحکام کی ترویج میں پاکستان کی مسلح افواج کے تعمیری و پیشہ ورانہ کردار کی بھرپور تعریف کی۔ دونوں اطراف نے تمام شعبوں بالخصوص دفاع اور سیکیورٹی میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور روابط کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی خصوصی دعوت پر جمعرات کے روز ایک اہم سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔ اپنے قيام کے دوران انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی، جس میں وزیراعظم نے پاکستان اور شام کے درمیان موجودہ دوستانہ تعلقات کو سیاست، دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں عملی اور نتیجہ خیز تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات کے دوران شامی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کی تجارتی اور کاروباری برادری کے درمیان براہ راست رابطوں اور باہمی تجارت کو فروغ دینے کی غرض سے پاک شام جوائنٹ بزنس کونسل قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی جس کا پاکستانی قیادت نے خیرمقدم کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق مئی 2007 میں سابق شامی وزیر خارجہ ولید المعلم کے دورہ اسلام آباد کے بعد کسی بھی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا یہ پہلا باضابطہ سرکاری دورہ ہے۔ دمشق میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ہونے والا یہ اہم ترین دورہ دونوں برادر ممالک کے سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کی بحالی اور مزید استحکام میں ایک نیا سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف باہمی روابط کو فروغ ملے گا بلکہ خطے میں پائیدار امن اور مشترکہ سیکیورٹی تعاون کی نئی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔