LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کی معاشی اصلاحات اور دیرپا ترقی کا مستقبل

News Image
پاکستان کی تاریخ میں اصلاحات کا عمل ہمیشہ سے حکومتی سرپرستی اور ٹیکنوکریٹس تک محدود رہا جس کی وجہ سے یہ دیرپا ثابت نہ ہو سکیں۔ ملک کی معاشی ترقی کے لیے اب ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جو نچلی سطح پر عوام کی فلاح و بہبود کا باعث بنیں اور سیاسی ادوار کی تبدیلی سے محفوظ رہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں 'ساختی اصلاحات' کی اصطلاح ایک کلشے بن چکی ہے، لیکن اس کی اصل اہمیت 'پیداواری صلاحیت' (productivity) میں مضمر ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں مختلف حکومتوں نے اپنی معاشی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوششیں کی ہیں، مگر یہ کامیابیاں مستقل ثابت نہ ہو سکیں۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ اصلاحات کا انحصار ہمیشہ افراد کی ذات پر رہا، نہ کہ مضبوط اداروں یا عوامی تائید پر۔ جب اصلاحات کا منصوبہ بنانے والے ٹیکنوکریٹس کو روزمرہ کی سیاست سے الگ تھلگ رکھا گیا تو یہ عوام سے کٹ گئے اور ایک ایسا ماڈل تشکیل پایا جو بیرونی سرمائے اور قرضوں پر تو چلتا رہا، مگر داخلی پیداواری صلاحیت میں صفر رہا۔ ویتنام اور جنوبی کوریا جیسی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے عالمی منڈی کے اصولوں کو اپنا کر اپنی معیشتوں کو مستحکم کیا، جبکہ پاکستان میں اصلاحات کا عمل صرف کتابی حد تک محدود رہا۔ اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ 'چار 'بنیادی تبدیلیوں' میں پوشیدہ ہے۔ پہلی تبدیلی یہ ہے کہ اصلاحات کو افراد کی بجائے اداروں اور سیاسی اتفاق رائے سے جوڑا جائے۔ ایک 'چارٹر آف اکانومی' کی ضرورت ہے جس کے تحت ٹیکس بیس، توانائی کی قیمتوں اور ریاستی اداروں کی اصلاحات کو پارلیمنٹ اور کونسل آف کامن انٹرسٹس (CCI) کے ذریعے ایک دہائی کے لیے محفوظ کر دیا جائے۔ یہ عمل صرف اوپر سے نہیں بلکہ نچلی سطح پر عوام کی شرکت سے ممکن ہے، جہاں انتظامی اور مالیاتی اختیارات کی منتقلی ہی اصل تبدیلی لا سکتی ہے۔ جب تک اصلاحات کا نچلی سطح پر کوئی حلقہ انتخاب نہیں بنے گا، تب تک ان کی افادیت مشکوک رہے گی۔ دوسری اہم ضرورت 'ایماندارانہ پیمائش' ہے۔ ہمیں اپنی کامیابی کا معیار محض روایتی جی ڈی پی کے اعدادوشمار کو نہیں، بلکہ 'ویلفیئر جی ڈی پی' کو بنانا ہوگا۔ ایک ایسا پیمانہ جو عام گھرانوں کی آمدنی، تقسیم دولت اور ان کی قوت خرید کو مدنظر رکھے۔ اس کے علاوہ، ٹیکنوکریٹس کی تقرری کو صوابدید کے بجائے قانونی حیثیت دی جانی چاہیے تاکہ سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ماہرین کی پالیسیاں تبدیل نہ ہوں۔ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کی طرح دیگر ریگولیٹری اداروں کو بھی قانونی تحفظ ملنا ضروری ہے تاکہ وہ حکومتی اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر کام کر سکیں۔ آخر میں، پاکستان کو نئی ایجادات کے بجائے موجودہ اداروں کی درست سمت میں تبدیلی (conversion) کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معیارات کو مقررہ وقت سے پہلے قانون سازی کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ یہ ڈسپلن کسی بھی حکومت کے جانے سے ختم نہ ہو۔ یونان کی طرح، ہمیں بھی قانون سازی کے ذریعے اپنی معیشت کو ڈیجیٹائز کرنا ہوگا اور مالیاتی قوانین کو اس قدر گہرائی تک نافذ کرنا ہوگا کہ وہ انتخابی چکروں سے بالاتر ہو جائیں۔ قومی پیداواری صلاحیت کو ہی اصل ہدف بنانا ہوگا تاکہ ملک 'ماضی کے حصار' سے نکل کر ایک پائیدار اور خود کفیل معاشی مستقبل کی جانب گامزن ہو سکے۔