World
امریکہ اور ایران کشیدگی، جے ڈی وینس کا معاشی دباؤ کا نیا مرحلہ
امریکہ کے نومنتخب نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اب معاشی دباؤ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دوسری جانب تہران نے امریکی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اپنی دفاعی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں تناؤ ایک بار پھر عروج پر پہنچ گیا ہے، جہاں امریکی رہنماؤں کے بیانات نے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، جے ڈی وینس نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ تہران کے خلاف جاری کشیدگی اور حکمت عملی اب ایک نئے اور سخت معاشی دباؤ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس نئی حکمت عملی کا مقصد ایران پر اقتصادی گھیرا تنگ کرنا اور اسے عالمی سطح پر مزید تنہا کرنا بتایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں اور بیانات کو سرے سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے کے امن کو خراب کرنے کی سازش ہیں اور تہران کسی بھی دباؤ کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا۔ ایرانی قیادت نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا بخوبی جانتے ہیں اور اندرونی یا بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
امریکہ کے اندر بھی اس پالیسی پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ چند روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی ایران کے حوالے سے سخت بیانات سامنے آئے تھے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے معاشی دباؤ کا یہ نیا مرحلہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے بحران کو روکا جا سکے۔