LIVE
Loading Breaking News...

شام کا ایران سے متعلق مؤقف، وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی کا بیان

News Image
شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ثالثی سے قبل تہران کو شامی عوام کے ساتھ کیے گئے اقدامات کا اعتراف کرنا ہوگا۔ اس دورے کے دوران پاک شام تعلقات، دفاعی تعاون اور تجارت کے فروغ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ ایران کو کسی بھی قسم کی سیاسی یا سفارتی ثالثی کی پیشکش پر غور کرنے سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس نے ماضی میں شام کے عوام کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیاسی اور عسکری محاذ پر نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں اور اسرائیل کی جانب سے جاری فضائی حملوں نے خطے کی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ شام کے وزیر خارجہ کے اس مؤقف کو مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں تہران اور دمشق کے روایتی تعلقات میں اب تناؤ کے آثار ابھر رہے ہیں۔ اپنے اس دورے کے دوران شامی وزیر خارجہ نے پاکستان کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف بھی شامل تھے۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانا تھا۔ بات چیت کے دوران خاص طور پر دفاعی تعاون، سیکیورٹی شراکت داری، تجارت کے فروغ اور تعلیمی شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔ خطے کے بدلتے ہوئے حالات میں شام کا پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا اس بات کا غماز ہے کہ دمشق مشرق وسطیٰ کے علاوہ دیگر اہم مسلم ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی روابط کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے پس منظر میں شامی حکام کی جانب سے سفارتی سطح پر نئے اتحاد بنانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شام کی حکومت اب اپنی خارجہ پالیسی میں توازن لانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ملک میں دیرپا امن اور تعمیرِ نو کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ وزیراعظم پاکستان نے بھی شامی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مشکل وقت میں شامی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور تمام شعبوں میں تعاون جاری رکھا جائے گا۔