LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا مستقبل اور ڈیجیٹل ترقی

News Image
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، جہاں تعلیمی اداروں اور حکومتی سطح پر نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ استادوں کی تربیت سے لے کر ملکی سطح پر محفوظ ڈیٹا کے پلیٹ فارمز تک، ملک ڈیجیٹل دور کی طرف گامزن ہے۔
پاکستان میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کا مستقبل انتہائی روشن نظر آ رہا ہے کیونکہ ملک کے مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کے اس جدید دور سے فائدہ اٹھانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں سندھ حکومت، یونیسف اور خان اکیڈمی کے اشتراک سے ایک ایسی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ان اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی خصوصی تربیتی پروگرام کامیابی سے مکمل کیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد تدریسی عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیمی معیار کو بلند کرنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اساتذہ کی اے آئی کی بنیادوں پر تربیت سے ملک کے پسماندہ علاقوں تک بہتر تعلیم کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ دوسری جانب، کاروباری اور حکومتی حلقوں میں بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، پاکستان اب ایک ایسے ملکی اے آئی پلیٹ فارم کے قیام پر غور کر رہا ہے جو سرکاری تجارتی ڈیٹا کو مکمل طور پر محفوظ رکھ سکے۔ حکومتی سطح پر ڈیٹا سیکیورٹی کو یقینی بنانا موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت ہے اور ملکی سطح پر تیار کردہ اے آئی سسٹمز اس مقصد کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ، کراچی سے لے کر سلیکن ویلی تک پاکستانی نژاد ماہرینِ ٹیکنالوجی عالمی سطح پر جاری اے آئی کے انقلاب میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستانی نوجوان اور آئی ٹی پروفیشنلز عالمی کمپنیوں کے ساتھ مل کر نئی ایپس اور الگورتھم تیار کر رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ ملک کے کارپوریٹ سیکٹر میں بھی اب مصنوعی ذہانت کو اپنانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کمپنیاں اپنے کاروباری امور کو تیز تر اور مؤثر بنانے کے لیے اے آئی ٹولز کا استعمال کر رہی ہیں۔ اگر ان تمام شعبوں میں حکومتی سرپرستی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری اسی رفتار سے جاری رہی، تو پاکستان آنے والے چند برسوں میں خطے میں مصنوعی ذہانت کا ایک بڑا مرکز بن کر ابھر سکتا ہے۔