LIVE
Loading Breaking News...

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے بستی کی بحالی اور عالمی احتجاج

News Image
اسرائیلی حکومت کی پشت پناہی اور قوم پرست لہر کے تحت تیس پائینیر خاندان مقبوضہ مغربی کنارے کی اس بستی میں منتقل ہو گئے ہیں۔ اس اچانک اور تیزی سے ہونے والی تبدیلی کی وجہ سے قریبی علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے احتجاج اور عالمی برادری کی شدید مخالفت کے باوجود، اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں پہلے سے خالی کی گئی ایک بستی کو دوبارہ آباد کر دیا گیا ہے۔ اس عمل کے دوران تیس 'پائینیر خاندان' قوم پرستانہ لہر کے تحت اس علاقے میں پہنچ گئے ہیں، جنہیں سرکاری سطح پر بھرپور حمایت اور حوصلہ افزائی حاصل ہے۔ اس بڑی پیش رفت نے ایک بار پھر خطے میں کشیدگی کو ہوا دے دی ہے اور امن کی کوششوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ اس غیر متوقع اور تیز رفتار تبدیلی کے نتیجے میں بستی کے آس پاس رہنے والے مقامی فلسطینی باشندوں میں شدید خوف اور تشویش کی لہر پھیل گئی ہے۔ فلسطینی شہریوں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف ان کی زمینوں پر قبضہ مزید مضبوط ہوگا بلکہ خطے میں مستقل امن کے قیام کی تمام امیدیں بھی دم توڑ جائیں گی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بستیوں کی بحالی سے زمینی حقائق کو زبردستی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب، اسرائیلی حکام اور آباد کاروں کی حامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان کے تاریخی اور جغرافیائی حقوق کا حصہ ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی بیرونی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور دنیا بھر کے ممالک اس تنازع کے پرامن حل کے لیے فکر مند ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بستیوں کی دوبارہ آبادی کا یہ سلسلہ خطے میں مزید بدامنی اور تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔