LIVE
Loading Breaking News...

پاناما نہر میں بحری جہازوں کی آمدورفت محدود کرنے کا اعلان

News Image
پاناما نہر کے آپریٹرز نے موسمیاتی مظہر ایل نینو کے باعث کم بارشوں کے پیش نظر نہر سے گزرنے والے بحری جہازوں کی یومیہ تعداد میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پانی کی سطح کو برقرار رکھنا اور بین الاقوامی بحری تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
عالمی تجارت کے ایک انتہائی اہم آبی راستے پاناما نہر کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ موسمیاتی مظہر ایل نینو کی وجہ سے کم بارشوں کے باعث وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی کی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ پانی کی سطح میں ہونے والی مسلسل کمی کے تدارک کے لیے کیا گیا ہے تاکہ نہر کا نظام بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا رہے۔ نہر کے آپریٹرز کے مطابق، ایل نینو کے اثرات کی وجہ سے خطے میں معمول سے بہت کم بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جس سے نہر کے آبی ذخائر میں پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے چلی گئی۔ اس صورتحال کے پیش نظر بحری جہازوں کے لیے گہرائی کے مسائل پیدا ہو رہے تھے، اور انتظامیہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر گزرنے والے جہازوں کی تعداد کو محدود کرے۔ واضح رہے کہ پاناما نہر بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس کو آپس میں ملاتی ہے اور عالمی سمندری تجارت کا تقریباً پانچ فیصد حصہ اس راستے سے گزرتا ہے۔ جہازوں کی آمدورفت میں اس کمی کی وجہ سے بین الاقوامی سپلائی چین پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ تاجروں کو متبادل راستوں کے انتخاب یا طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور موسم کی تبدیلیوں کے مطابق آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے ایسے اثرات دنیا بھر کے اہم تجارتی راستوں کے لیے مستقبل میں بڑے چیلنجز کھڑے کر سکتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔