LIVE
Loading Breaking News...

ہانگ کانگ میں تینانمین کے کارکنان قومی سلامتی کے مقدمے میں مجرم قرار

News Image
ہانگ کانگ کی عدالت نے تینانمین اسکوائر کے واقعے کی یاد منانے والے دو سرکردہ کارکنان کو قومی سلامتی کے الزامات کے تحت مجرم قرار دے دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے اس عدالتی فیصلے کو کڑی تن کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جانبدارانہ قرار دیا ہے۔
ہانگ کانگ کی ایک عدالت نے تینانمین اسکوائر کے واقعے کی یاد میں سرگرم رہنے والے دو نامور کارکنان کو قومی سلامتی سے جڑے الزامات کے تحت مجرم قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ہانگ کانگ کے عدالتی نظام اور بنیادی آزادیوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں اختلافِ رائے کو کچلنے کی ایک اور کڑی ہے۔ سرگرم کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عدالتی کارروائی کو کڑی تن کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک سرگرم کارکن گروپ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ہانگ کانگ کا موجودہ مروجہ عدالتی نظام انصاف کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور اس مقدمے میں فیصلے پہلے سے ہی طے شدہ معلوم ہوتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے فیصلوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور تاریخی حقائق کو دبانا ہے تاکہ کوئی بھی حکومت کے خلاف آواز بلند نہ کر سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فیصلے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہانگ کانگ میں بیجنگ کے اثر و رسوخ کے بعد سے سیاسی سرگرمیوں اور اختلافِ رائے کے لیے گنجائش انتہائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ ماضی میں تینانمین اسکوائر کے شہداء کی یاد میں ہانگ کانگ میں بڑے پیمانے پر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں حکام کی جانب سے ان یادگاری تقریبات پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس میں حصہ لینے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔