World
مصر اور اتھوپیا کشمکش: دریائے نیل پر نئے ڈیمز کا معاملہ
مصر کو ایک بار پھر اتھوپیا کی جانب سے دریائے نیل پر نئے ڈیمز کی تعمیر کے منصوبوں کی وجہ سے ایک نئے سفارتی اور جغرافیائی چیلنج کا سامنا ہے۔ گرینڈ اتھوپین رینیسنس ڈیم کی تعمیر کو روکنے میں ناکامی کے بعد اب تین نئے پروجیکٹس قاہرہ کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
گرینڈ اتھوپین رینیسنس ڈیم یعنی جی ای آر ڈی کی تعمیر کو روکنے میں ناکامی کے بعد اب مصری حکومت کے سامنے ایک نیا اور بڑا امتحان سر اٹھا رہا ہے۔ اتھوپیا کی جانب سے دریائے نیل پر مزید تین نئے پروجیکٹس کی تیاری نے قاہرہ کے پالیسی سازوں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ مصر اپنے پانی کے بنیادی ذرائع کے حوالے سے شدید حفاظتی خدشات رکھتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال خطے میں پانی کی تقسیم کے تنازع کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر لے جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل گرینڈ اتھوپین رینیسنس ڈیم کے تنازع پر مصر اور اتھوپیا کے درمیان کئی سالوں تک سفارتی سطح پر طویل مذاکرات جاری رہے، جو کسی حتمی اور پائیدار معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔ اتھوپیا نے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اس ڈیم کی تعمیر کا عمل جاری رکھا، جسے قاہرہ اپنے آبی مفادات کے لیے ایک براہ راست خطرہ قرار دیتا ہے۔ اس ناکامی کے بعد اب مصری حکام کے لیے یہ سوچنا ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ مستقبل کے منصوبوں کے خلاف کس طرح موثر حکمت عملی اپنا سکتے ہیں۔
تین نئے متوقع منصوبے مصر کے لیے پانی کی سلامتی کے تناظر میں ایک اور بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ دریائے نیل پر ان نئے ڈیمز کی تعمیر کے نفاذ سے مصری زراعت اور مجموعی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے والے پانی کے بہاؤ پر شدید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ قاہرہ کی وزارتِ آبی وسائل ان تمام پیش رفتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور بین الاقوامی فورمز پر اپنے موقف کو اجاگر کرنے کے لیے نئے سفارتی ذرائع تلاش کر رہی ہے۔
آئندہ آنے والے دنوں میں مصر اور اتھوپیا کے درمیان یہ آبی کشمکش خطے کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑ سکتی ہے۔ اگرچہ مصری حکام خطے میں امن اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی بات کرتے ہیں، تاہم اپنے آبی حقوق کے دفاع کے لیے سخت لائحہ عمل اپنانے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا۔ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی یہ صورتحال ایک چیلنج ہے کہ وہ افریقہ کے اس اہم خطے میں پانی کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کیا کردار ادا کرتی ہے۔