Politics
وزیراعظم اور صدر کا دہشتگردی کے خلاف عالمی لائحہ عمل کا مطالبہ
وزیراعظم اور صدر نے دہشتگردی کے متاثرین کی یاد کے عالمی دن پر اپنے پیغامات میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر متحد ہو کر اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانی و مالی دونوں لحاظ سے بھاری قیمت چکائی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشتگردی کے متاثرین کی یاد اور خراجِ تحسین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں دنیا بھر پر زور دیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے ناسور کے خلاف متحد ہو کر عملی اقدامات کریں۔ دونوں رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور اس عفریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مشترکہ عالمی کوششیں ناگزیر ہیں۔ ہر سال اکیس اگست کو منائے جانے والے اس دن کے حوالے سے اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ انہوں نے پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں اور بے گناہ شہریوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے معاشی اور سماجی سطح پر بھی اس جنگ میں بھاری قیمت چکائی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک پوری قومی یکجہتی کے ساتھ یہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور دہشتگردی کسی بھی مذہب یا تہذیب کا حصہ نہیں بلکہ یہ بیمار ذہنوں کی غماز ہے۔
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں دہشتگردی کے متاثرین، ان کے اہل خانہ اور ان کمیونٹیز کے ساتھ گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کیا جن کی زندگیاں اس تشدد کی وجہ سے بدل گئیں۔ صدر زرداری نے کہا کہ پچھلے دو دہائیوں کے دوران پاکستان کے ہزاروں شہریوں، بچوں، سیاسی رہنماؤں، سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور پبلک سرونٹس نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے سانحہ اے پی ایس پشاور اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آج بھی ہمارے جوان اور شہری بڑی بہادری سے اس ناسور کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ صدر مملکت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی مقصد یا نظریے کے تحت معصوم لوگوں کا قتلِ عام جائز نہیں قرار دیا جا سکتا، اور عالمی برادری کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کسی بھی دہشتگرد تنظیم کو بیرونی امداد، پناہ گاہیں یا مالی معاونت حاصل نہ ہو۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متاثرینِ دہشتگردی کی جسمانی، نفسیاتی اور سماجی بحالی صرف خیرات نہیں بلکہ انصاف اور انسانی وقار کا تقاضا ہے۔ حکومت محدود وسائل کے باوجود شہداء اور متاثرین کے خاندانوں کو صحت، تعلیم اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیراعظم اور صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ متاثرین کی آواز بلند کرنے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے جدید ٹیکنالوجی سمیت تمام ممکنہ ذرائع کو بروئے کار لایا جائے گا تاکہ انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنایا جا سکے۔