Business
آئی ایف سی اور بینک الفلاح کے درمیان 100 ملین ڈالر کے فنانسنگ معاہدے پر دستخط
عالمی بینک کے تجارتی بازو آئی ایف سی اور بینک الفلاح نے ڈائیورسٹیفائیڈ پیمنٹ رائٹس پروگرام کے تحت 100 ملین ڈالر کے فنانسنگ معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والی اس تقریب کو ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور کیپٹل مارکیٹ کے فروغ کی جانب اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) جو کہ ورلڈ بینک کا تجارتی بازو ہے، اور بینک الفلاح کے درمیان ڈائیورسٹیفائیڈ پیمنٹ رائٹس (ڈی پی آر) پروگرام کے تحت 100 ملین ڈالر کی فنانسنگ کے تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ فنانس وزارت میں منعقدہ اس پروقار تقریب میں فنانس منسٹر محمد اورنگزیب نے خصوصی طور پر شرکت کی اور اس کی صدارت کی۔ اس معاہدے پر دستخط آئی ایف سی کی ریجنل انڈسٹری ڈائریکٹر مومنہ اعجاز الدین اور بینک الفلاح کے صدر و سی ای او عاطف اے باجوہ نے کیے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق مارکیٹ کے حالات اور ابتدائی ٹرانزیکشن کی کارکردگی کی بنیاد پر یہ پروگرام مستقبل میں مزید فنانسنگ اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی شمولیت کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے۔ ڈی پی آر پروگرام طویل مدتی غیر ملکی کرنسی فنانسنگ کے حصول کے لیے ایک جدید طریقہ کار مہیا کرتا ہے، جس کا بنیادی مقصد بیرونی فنانسنگ کے ذرائع کو وسعت دینا اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ تک آسان رسائی کو ممکن بنانا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، آئی ایف سی اور بینک الفلاح کے درمیان شاندار باہمی تعاون کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اقدام میں ریگولیٹری اور تکنیکی سطح پر کافی محنت کی گئی ہے اور یہ مستقبل میں اس طرح کے دیگر مالیاتی ڈھانچے کی راہ ہموار کرے گا۔ وزیر خزانہ نے ملک میں غیر ملکی کرنسی کے حصول کے ذرائع کو متنوع بنانے اور پیداواری معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ دوسری جانب، بینک الفلاح نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ وہ کسی بھی پاکستانی بینک کی جانب سے ڈی پی آر ٹرانزیکشن کرنے والا پہلا ادارہ بن گیا ہے۔ بینک کا عزم ہے کہ وہ اس مالیاتی ڈھانچے کو بروئے کار لاتے ہوئے پیداواری سرمایہ کاری اور غیر ملکی کرنسی کی ضروریات کو پورا کرے گا۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کے ڈیبیٹ کیپٹل مارکیٹ اور ایکسٹرنل فنانسنگ فریم ورک میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، جو دیگر مقامی بینکوں کے لیے بھی اس نوعیت کے معاہدے کرنے کی راہیں کھولے گا۔