Business
امریکی قومی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز، حکومتی اخراجات پر تنقید
امریکی وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملکی مجموعی قومی قرضہ پہلی بار چالیس ٹریلین ڈالر کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گیا ہے۔ قرضوں میں اس بے پناہ اضافے پر امریکی سیاست دانوں اور قانون سازوں کی جانب سے سخت تشویش کا اظہار کیا جا रहा ہے۔
واشنگٹن: امریکی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ریاستہائے متحدہ امریکہ کا مجموعی قومی قرضہ ملکی تاریخ میں पहली बार چالیس ٹریلین ڈالر کی حد سے تجاوز کر گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ منگل کے روز کاروبار بند ہونے پر کل سرکاری بقایا قرضہ چالیس اعشاریہ صفر پانچ ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ یہ اضافہ کانگریشنل بجٹ آفس کی اس پیشگوئی سے کہیں زیادہ تیز ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مالی سال 2026 کے اختتام تک مجموعی قرضہ انہتر اعشاریہ چار ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ قرضوں میں اس ہوشربا اضافے نے معاشی ماہرین اور سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے کیونکہ یہ صورتحال سابقہ حکومتی دعووں کے بالکل برعکس ہے۔ یہ بڑھتا ہوا بوجھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھماکا ہے جنہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران سرکاری اخراجات میں کمی لانے کا پختہ وعدہ کیا تھا۔ تاہم، ٹیرف کے معاملات، سماجی تحفظ اور صحت کی دیکھ بھال کے طویل مدتی وعدوں کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے سود کی ادائیگیوں نے ملکی خزانے پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور دفاعی اخراجات نے بھی امریکی معیشت کی کمر توڑ دی ہے، جہاں پینٹاگون کے لیے ریکارڈ فنڈنگ کی منظوری دی جا چکی ہے۔ قرضوں کی اس نئی صورتحال پر امریکہ کے دونوں سیاسی دھڑوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ریپبلکن سینٹر رک اسکاٹ نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اخراجات پر قابو پائے اور بجٹ کو متوازن کرے۔ دوسری جانب، ڈیموکریٹک سینٹر مارک کیلی نے الزام عائد کیا ہے کہ انتظامیہ نے قومی قرضوں کو چالیس ٹریلین ڈالر تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ مہنگائی اور مالیاتی خسارے کی وجہ سے طویل مدتی ٹریژری بانڈز کی پیداوار بھی دو ہزار سات کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس بحران کے باعث اب امریکی حکومت کو انتہائی بلند شرح سود پر اپنے قرضوں کی ری فنانسنگ کرنا پڑ رہی ہے جس سے مالیاتی منڈیوں میں شدید بے یقینی پائی جاتی ہے۔