Politics
اسلام آباد میں سیاسی ہلچل اور پی پی پی کی حکومت کو تنقید
اسلام آباد میں سیاسی گہमागहमी میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب پیپلز پارٹی نے حکومتی اتحادیوں سے ناراضگی کے بعد اپوزیشن سے رابطے تیز کر دیے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر سابق وزیراعظم عمران خان کو ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد سیاسی منظر نامے میں نئی تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
اسلام آباد کے سیاسی ایوانوں میں اس وقت گہری ہلچل مچی ہوئی ہے اور مختلف قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور دیگر سیاسی تنازعات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومتی جماعت مسلم لیگ ن کے خلاف اپنے تیور سخت کر لیے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے اپوزیشن بنچوں کے ساتھ رابطے بڑھا دیے ہیں، جس کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ایک نیا سیاسی منظر نامہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ اسی دوران سپریم کورٹ کے اس حکم نے کہ بیمار سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے ہسپتال منتقل کیا جائے، سیاسی چہ مگوئیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے وفد نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سے ملاقات کی جس کا مقصد پارلیمانی کارروائی کے دوران باہمی تعاون حاصل کرنا تھا۔ اس ملاقات کے اثرات اسی روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں واضح طور پر نظر آئے جہاں پیپلز پارٹی نے حکومتی قانون سازی کے ایجنڈے کو عملی طور پر معطل کرا دیا۔ دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی فالو اپ ملاقاتوں میں انتخابی عمل میں اصلاحات کے مشترکہ ایجنڈے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے جمہوری روایات کے عین مطابق قرار دیا ہے۔ جمعرات کے روز بھی کشمکش کا یہ سلسلہ جاری رہا جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے دفاعی وزیر کی طرف سے دو سرپرائز بلز پیش کیے جانے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ حکومت نے اہم قانون سازی کے دوران اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر انتخابات میں مبینہ دھاندلی، اتحادی جماعت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں سے انحراف، نئے صوبوں کے قیام اور نئی قانون سازی کے امور پر بھی پی پی پی کو شدید تحفظات ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ سیاسی جوڑ توڑ محض حکومت کو اپنی طاقت کا احساس دلانے کے لیے ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑی سیاسی تبدیلی چھپی ہے۔ تاہم، پارلیمنٹ کے اندر اس سرگرمی کو جمہوریت کے لیے ایک مثبت علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قانون سازوں کو اپنے حلقے کے مسائل اور عوامی اہمیت کے حامل امور پر سنجیدہ بحث کرنے کا موقع مل رہا ہے۔