LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا ممکنہ دفاعی معاہدہ اور خطے کی سیاست

News Image
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے کی منصوبہ بندی خطے میں نئے سکیورٹی اتحاد کی عکاس ہے۔ اس ممکنہ پیش رفت پر بھارت کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے جس سے خطے میں جغرافیائی سیاسی صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ایک نئے دفاعی معاہدے کی منصوبہ بندی پر غور کیا جا رہا ہے، جس نے خطے کی روایتی سکیورٹی مساوات کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ اس ممکنہ دفاعی اشتراک کو تجزیہ کاروں کی طرف سے ایک اہم اسٹریٹجک تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو آنے والے وقت میں خطے کے طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مابین تعلقات میں نئے ابعاد سامنے آ رہے ہیں۔ اس مجوزہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے خطے میں مختلف حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ بعض بھارتی فوجی حکام اور مبصرین کی جانب سے اس اتحاد پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے والی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے دفاعی معاہدے نہ صرف عسکری تعاون کو فروغ دیں گے بلکہ اس سے اقتصادی اور سفارتی سطح پر بھی تینوں برادر اسلامی ممالک کے روابط مزید مستحکم ہوں گے۔ دوسری جانب، عالمی میڈیا اور تجزیاتی اداروں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ اگر یہ دفاعی معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات کہاں تک جائیں گے۔ کیا یہ اتحاد خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگی یا کشیدہ صورتحال میں توازن قائم رکھ پائے گا، اس حوالے سے سکیورٹی ماہرین مختلف آراء رکھتے ہیں۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس نئے سٹریٹجک کیلکولس نے بین الاقوامی سطح پر سفارتی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے اور تمام بڑی طاقتیں اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔