Health
ذہنی صحت اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا رجحان، ڈاکٹر ٹک ٹاک کا کردار
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ذہنی صحت سے متعلق شعور اور ہمدردی کو فروغ دیا ہے تاہم یہ باضابطہ طبی علاج کا متبادل نہیں بن سکتے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق ان لائن مشورے ثانوی مدد کا کام کر سکتے ہیں لیکن پیشہ ورانہ دیکھ بھال ناگزیر ہے۔
آج کے اس دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، وہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے صحت کے معاملات میں بھی ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ ٹک ٹاک اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع اب ذہنی صحت کے مسائل پر بات کرنے اور مشورے دینے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ نوجوان نسل اور عام صارفین اپنے نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے روایتی طبی معالجین کے بجائے سوشل میڈیا ویڈیوز اور ان لائن انفلوئنسرز کا رخ کر رہے ہیں، جسے اب ماہرین نے 'ڈاکٹر ٹک ٹاک' کا نام دیا ہے۔ اس رجحان کے جہاں کچھ مثبت پہلو ہیں، وہیں اس کے سنجیدہ طبی نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ معاشرے میں ذہنی مسائل سے جڑے خوف اور جھجھک کو ختم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں میں ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنی کیفیات کو اکیلے جھیلنے کے بجائے کھل کر بات کرنے کی ترغیب پاتے ہیں۔ ہزاروں افراد کو یہ جان کر تسلی ملتی ہے کہ وہ اپنے ذہنی مسائل یا ڈپریشن میں اکیلے نہیں ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز ابتدائی نوعیت کی آگاہی پھیلانے میں انتہائی موثر ثابت ہو رہے ہیں، جہاں لوگ روزمرہ کی زندگی میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے چھوٹے موٹے ٹوٹکے یا طریقے سکھاتے ہیں۔ تاہم، ماہرین صحت اور ماہرین نفسیات اس رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا کبھی بھی سائنسی بنیادوں پر کیے جانے والے علاج یا باضابطہ نفسیاتی دیکھ بھال کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ انٹرنیٹ پر موجود مواد عام نوعیت کا ہوتا ہے اور ہر فرد کی ذہنی صحت کا مسئلہ منفرد اور پیچیدہ ہوتا ہے، جس کے لیے ذاتی تشخیص اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ غیر مصدقہ مشوروں پر عمل کرنے سے مریضوں کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے کیونکہ خود ساختہ تشخیص یا غلط معلومات سے ذہنی دباؤ میں کمی کے بجائے اضافہ ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کو صرف شعور بیدار کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا جائے، جبکہ کسی بھی سنجیدہ نفسیاتی یا ذہنی مسئلے کی صورت میں ہمیشہ مستند معالج سے رجوع کیا جائے۔ باضابطہ علاج معالجے کے بغیر ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنا خطرے سے خالی نہیں ہے، اور عوام کو اس حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔