Entertainment
آریانہ گرانڈے کا ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف سخت بیان اور میوزک استعمال کرنے پر پابندی
مشہور امریکی گلوکارہ آریانہ گرانڈے نے ٹرمپ انتظامیہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان کا میوزک دوبارہ کبھی استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے فن کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔
مشہور بین الاقوامی پاپ گلوکارہ آریانہ گرانڈے نے ٹرمپ انتظامیہ پر ایک بار پھر شدید تنقید کے تیر برسائے ہیں اور اپنے مداحوں اور میڈیا کے سامنے واضح کیا ہے کہ ان کے گانوں یا موسیقی کو سیاسی مقاصد یا کسی بھی قسم کی مہم کے لیے ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔ گلوکارہ نے یہ سخت موقف ایک ایسے وقت میں اپنایا ہے جب مختلف سیاسی پلیٹ فارمز پر فنکاروں کی اجازت کے بغیر ان کے ہٹ گانے چلائے جانے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
آریانہ گرانڈے نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ فنکار کی رضامندی کے بغیر اس کی تخلیقات کو سیاسی وابستگیوں یا پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنا نہ صرف کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ فنکاروں کی ذاتی آزادی کی بھی پامالی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اس طرح کے اقدامات کے خلاف بھرپور آواز اٹھاتی رہیں گی تاکہ ان کے فنی کام کو کسی متنازع سیاسی ایجنڈے کے ساتھ نہ جوڑا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی معروف موسیقار یا گلوکار نے سیاسی شخصیات یا انتظامیہ کی جانب سے اپنا میوزک غیر قانونی طور پر استعمال کیے جانے پر اعتراض اٹھایا ہو۔ اس سے قبل بھی کئی نامور فنکار ٹرمپ مہم کے دوران اپنے گانے بجائے جانے پر قانونی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اس حالیہ واقعے نے ایک بار پھر سیاسی اجتماعات میں کاپی رائٹ کے قوانین اور فنکاروں کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
مداحوں اور شوبز حلقوں کی جانب سے آریانہ گرانڈے کے اس دوٹوک مؤقف کو سراہا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے تنازعات مستقبل میں فنکاروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتے ہیں، جس سے کاپی رائٹ کے قوانین مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔