LIVE
Loading Breaking News...

اسٹاک مارکیٹ: چھ ماہ میں سمال کیپ شیئرز میں دو سو سترہ فیصد تک کا اضافہ

News Image
گزشتہ چھ ماہ کے دوران مجموعی مارکیٹ میں مندی کے باوجود چودہ سمال کیپ شیئرز میں دو سو سترہ فیصد تک کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس دوران ان میں سے چھ حصص نے سرمایہ کاروں کو حیرت انگیز منافع دے کر ملٹی بیگرز کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔
بھارتی اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں جاری اتار چڑھاؤ کے باوجود چھوٹے درجے کے شیئرز یعنی سمال کیپ اسٹاکس نے حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے عرصے کے دوران جہاں بینچ مارک نفٹی ففٹی انڈیکس میں تقریباً ساڑھے پانچ فیصد کی کمی واقع ہوئی، وہیں اس کے برعکس نفٹی سمال کیپ ٹو ہنڈرڈ ففٹی انڈیکس نے رجحان کے خلاف جاتے ہوئے تقریباَ پندره فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ مجموعی اعداد و شمار کہانی کا صرف ایک رخ پیش کرتے ہیں جبکہ اصل دلچسپ صورتحال انفرادی شیئرز کی سطح پر دیکھنے میں آئی ہے۔ مارکیٹ کے تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس عرصے کے دوران متعدد چھوٹے اسٹاکس نے زبردست تیزی دکھائی اور سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنے۔ دستیاب مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق، اس سمال کیپ کیٹگری میں شامل چودہ ایسے شیئرز ہیں جنہوں نے صرف چھ ماہ کے مختصر عرصے میں دو سو سترہ فیصد تک کا زبردست منافع درج کیا۔ ان چودہ میں سے چھ شیئرز ایسے ہیں جنہوں نے ملٹی بیگر اسٹاکس کا درجہ حاصل کر لیا ہے، یعنی ان کی قیمتیں ابتدائی سطح سے کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ اس طرح کی کارکردگی نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ان کے اپنے پورٹ فولیو میں ایسے بلند و بالا صلاحیت والے شیئرز موجود ہیں یا نہیں۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سمال کیپ سیکٹر میں سرمایہ کاری جہاں ایک طرف بڑی کمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے، وہیں دوسری طرف اس میں خطرات کا عنصر بھی اسی نسبت سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی شیئر میں رقم لگانے سے پہلے کمپنی کی بنیادی کارکردگی اور مارکیٹ کے رجحانات کا گہرائی سے جائزہ لیں تاکہ طویل مدت میں منافع کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔