LIVE
Loading Breaking News...

ونڈوز 11 کا نیا بگ: ایکو موڈ لیپ ٹاپ کے جی پی یو ڈرائیورز کو تباہ کر رہا ہے

News Image
مائیکروسافٹ کے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 11 میں ایک غیر معمولی تکنیکی خرابی دریافت ہوئی ہے جو لیپ ٹاپ کو ایکو موڈ میں چلانے پر جی پی یو ڈرائیورز کو شدید متاثر کرتی ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے صارفین کو گرافکس کارڈ کی کارکردگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مائیکروسافٹ کے جدید ترین آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 11 کے حوالے سے ایک پریشان کن انکشاف سامنے آیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، اگر کوئی صارف اپنے لیپ ٹاپ کو 'ایکو موڈ' (Eco Mode) پر رکھتا ہے، تو اس عمل سے گرافکس پروسیسنگ یونٹ یعنی جی پی یو (GPU) کے ڈرائیورز کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس تکنیکی خرابی نے دنیا بھر کے ان صارفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو اپنے سسٹمز پر گرافکس سے متعلقہ بھاری کام انجام دیتے ہیں۔ ابھی تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، یہ مسئلہ ونڈوز 11 کے پاور مینجمنٹ سسٹم اور ہارڈ ویئر کے باہمی تعامل میں کسی نقص کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے۔ جب لیپ ٹاپ کو بیٹری بچانے کے لیے ایکو موڈ پر منتقل کیا جاتا ہے، تو سسٹم کی طرف سے گرافکس کارڈ کو ملنے والی ہدایات میں خلل پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں ڈرائیورز کریش ہو جاتے ہیں یا ناقابلِ استعمال ہوجاتے ہیں۔ صارفین کو اس مسئلے کی وجہ سے سکرین بلنکنگ، گیمنگ میں فریم ڈراپس اور بعض اوقات مکمل بلیک سکرین کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی اور ریڈی ایٹرز نے اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ فی الحال اپنے لیپ ٹاپس کو غیر ضروری طور پر ایکو موڈ پر چلانے سے گریز کریں جب تک کہ مائیکروسافٹ یا متعلقہ گرافکس کمپنیاں (جیسے کہ اینڈیا اور اے ایم ڈی) اس حوالے سے کوئی باضابطہ پیچ یا اپ ڈیٹ جاری نہیں کر دیتیں۔ اگر کسی صارف کو اس نوعیت کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسے اپنے جی پی یو ڈرائیورز کو مکمل طور پر اَن انسٹال کر کے دوبارہ انسٹال کرنا پڑ سکتا ہے۔ مائیکروسافٹ کی جانب سے تاحال اس بگ پر کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن توقع کی جارہی ہے کہ کمپنی اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے جلد ہی ایک نئی سکیورٹی اور پرفارمنس اپ ڈیٹ فراہم کرے گی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ جدید آپریٹنگ سسٹمز میں بیٹری کی بچت کے فیچرز بعض اوقات ہارڈ ویئر کی کارکردگی کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ صارفین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے سسٹمز کو اپ ڈیٹ رکھیں اور ہارڈ ویئر کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔