LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینی گھر پر حملہ، ماں اور بچے سوتے رہے

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں نے ایک فلسطینی گھر کو اس وقت نذرِ آتش کر دیا جب اندر ماں اور اس کے معصوم بچے سو رہے تھے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد مقامی فلسطینیوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانیت سوز واقعے کے دوران انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں نے ایک فلسطینی خاندان کے رہائشی مکان کو اس وقت آگ لگا دی جب گھر کے تمام مکین بشمول ایک ماں اور اس کے معصوم بچے گہری نیند سو رہے تھے۔ اس گھناؤنے فعل نے علاقے میں خوف و ہراس کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں کس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور کس طرح عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گھر کے قریب پہنچے اور جان بوجھ کر عمارت کو آگ کے حوالے کر دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔ خوش قسمتی سے، پڑوسیوں اور مقامی رضاکاروں کی بروقت مداخلت اور کوششوں کے باعث خاندان کے افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا، ورنہ ایک بڑا جانی نقصان بھی ہو سکتا تھا، تاہم گھر کا بیشتر حصہ جل کر راکھ ہو چکا ہے۔ اس ظالمانہ کارروائی کے بعد مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی عوام کی جانب سے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا جا رہا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر نوٹس لے کر ان انتہا پسند عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔ مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے فلسطینیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنے کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں، لیکن وہ ہر مشکل حالات کے باوجود اپنے وطن ڈٹے رہیں گے۔