LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کا منصوبہ، یورپ اور کینیڈا کا اظہارِ تشویش

News Image
یورپی ممالک اور کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے میں متنازعہ نئی اسرائیلی بستیوں کے منصوبے کو ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی اور اس میں حصہ لینے والوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یورپی ممالک اور کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے متنازعہ منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر مسترد کر دیا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے اس پیش رفت کو خطے میں امن کی کوششوں کے لیے ایک اور بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق متنازعہ ای ون (E1) پلان کے تحت نئی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جسے بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یورپی ممالک نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات خطے میں دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور یہ عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ یورپی ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں اس منصوبے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس میں حصہ لینے والے اداروں یا افراد کو سنگین قانونی اور سفارتی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف امن کے عمل کو سبوتاژ کرتے ہیں بلکہ مقبوضہ علاقوں میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ دوسری جانب کینیڈا نے بھی یورپی ممالک کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان غیر قانونی منصوبوں سے دستبردار ہو جائے۔ کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کا یہ سلسلہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مبصرین کے مطابق یورپ اور کینیڈا کی جانب سے اس مشترکہ بیان کے بعد اسرائیل پر سفارتی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے فی الحال اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بین الاقوامی برادری ایک بار پھر اس بات پر زور دے رہی ہے کہ تنازعے کے پرامن حل کے لیے تمام فریقین کو اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرنا چاہئے۔