Politics
عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد رکن منتخب
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹک رہنما عائشہ وہاب نے خصوصی انتخاب جیت کر امریکی کانگریس میں شمولیت کا تاریخی اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ وہ پہلی افغان نژاد امریکی ہیں جو امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہوئیں۔
واشنگٹن: کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی اسٹیٹ سینیٹر عائشہ وہاب نے ایک سخت مقابلے کے بعد خصوصی الیکشن میں کامیابی حاصل کر کے امریکی کانگریس کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ وہ اس طرح امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی افغان نژاد امریکی بن گئی ہیں۔ عائشہ وہاب جو کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند ونگ کی ایک نمایاں رکن ہیں، نے کیلیفورنیا کے 14 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ میں اپنی ہی پارٹی کی حریف میلیسا ہرنینڈز کو شکست دی۔ انتخابی مہم کے دوران لاکھوں ڈالر کے بیرونی اخراجات اور شدید مخالفت کے باوجود عائشہ وہاب نے یہ معرکہ سر کیا۔ اس فتح کے بعد افغان نژاد امریکیوں اور مسلمانوں کو کیپیٹل ہل میں ایک نیا اور مؤثر سیاسی مقام مل گیا ہے۔ انتخابی نتائج کا باضابطہ اعلان جمعرات کو کیا گیا، جس نے ملک بھر میں زبردست توجہ حاصل کی۔ انتخابی مہم کے دوران اس وقت ڈرامائی موڑ آیا جب متعدد بیرونی گروپوں نے اس مقابلے میں لاکھوں ڈالر جھونک دیے۔ انتخابی مالیاتی رپورٹس کے مطابق اسرائیل نواز لابی سے وابستہ گروپوں نے میلیسا ہرنینڈز کی حمایت اور عائشہ وہاب کی مخالفت میں اشتہارات پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے۔ اس بھاری بھرکم اخراجات کی وجہ سے وہاب کی بظاہر آسان برتری ایک کڑے مقابلے میں تبدیل ہو گئی۔ تاہم، عائشہ وہاب نے تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ عائشہ وہاب اب سابق نمائندے ایرک سوالویل کی مدتِ کار کے بقیہ چند ماہ کے لیے خدمات انجام دیں گی، جنہوں نے جنسی بدسلوکی کے الزامات کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ عائشہ وہاب کی پیدائش نیویارک کے علاقے کوئنز میں افغان مہاجرین کے ہاں ہوئی تھی جو 1980 کی دہائی میں سوویت افغان جنگ کے دوران ہجرت کر کے امریکہ آئے تھے۔ کم عمری میں ان کے والد کو قتل کر دیا گیا اور ان کی والدہ بھی جلد ہی انتقال کر گئیں۔ اس کے بعد وہ اور ان کی بہن فوسٹر کیئر کا حصہ بنیں۔ بعد ازاں کیلیفورنیا کے شہر فریمونٹ میں ایک افغان جوڑے نے انہیں گود لیا۔ عائشہ وہاب نے اپنی اس طویل اور مشکل جدوجہد کو 'امریکی خواب' کی تعبیر قرار دیا ہے۔ سیاسی میدان میں قدم رکھنے سے پہلے انہوں نے سان ہوزے اسٹیٹ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن اور پھر سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی سے سوشل ورک میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ 2022 میں کیلیفورنیا اسٹیٹ سینیٹ کے لیے منتخب ہوئی تھیں اور اس ایوان میں بھی پہلی مسلم اور افغان نژاد رکن بننے کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔ اب ان کی وفاقی سطح پر کانگریس میں شمولیت نے افغان نژاد امریکیوں کو ایک تاریخی بلندی عطا کی ہے۔