World
براڈ پیک ایلانچ: امریکی کوہ پیما کی لاش برآمد، ریسکیو آپریشن جاری
برطرف اور مقامی رضاکاروں کی کوششوں سے براڈ پیک کے دامن سے امریکی کوہ پیما سارہ ملوری گیس کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔ یہ حادثہ 30 جولائی کو پیش آیا تھا جس میں بین الاقوامی مہم جو ٹیم کے اراکین جاں بحق ہوئے تھے۔
گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ایک براڈ پیک پر پیش آنے والے المناک برفانی تودے کے حادثے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق براڈ پیک پر 30 جولائی کو آنے والے ایک شدید ایلانچ کی زد میں آ کر جاں بحق ہونے والی امریکی کوہ پیما سارہ ملوری گیس کی لاش جمعہ کے روز کامیابی کے ساتھ برآمد کر لی گئی۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب نامور برطانوی نیپالی کوہ پیما نرمال پرجا کی قیادت میں دس رکنی بین الاقوامی مہم جو ٹیم اس خطرناک پہاڑ پر موجود تھی اور ایلانچ کی وجہ سے ان کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
ایلانچ کے فوراً بعد چلائے جانے والے ریسکیو آپریشنز کے دوران اس مہم جو ٹیم کے آٹھ اراکین کی لاشیں پہلے ہی تلاش کر لی گئی تھیں جن میں پاکستان کے معروف کوہ پیما سہیل سخی بھی شامل تھے۔ تاہم امریکی کوہ پیما سارہ ملوری گیس اور نیپال کے نواونگ تھندو شرپا اس وقت تک لاپتہ تھے۔ الپائن کلب آف پاکستان کے صدر ریٹائرڈ میجر جنرل عرفان ارشاد خان نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ مقامی ریسکیو رضاکاروں نے براڈ پیک کے ڈھلوانوں سے امریکی کوہ پیما کی لاش ڈھونڈ نکالی ہے جسے اب بیس کیمپ منتقل کیا جا رہا ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ایاز شگری نے بتایا کہ مقامی پورٹرز اور ٹریکنگ ٹیم کے رضاکاروں نے اس تلاش میں بھرپور مدد فراہم کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شناخت کے بعد اس لاش کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سکردو منتقل کیا جائے گا جبکہ دوسرے لاپتہ نیپالی کوہ پیما کی تلاش کا عمل ابھی بھی جاری رکھا گیا ہے۔ دوسری طرف سپانتک چوٹی پر بھی ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ڈاکٹر اسماء مشتاق نامی پاکستانی کوہ پیما اترتے ہوئے طبی ایمرجنسی کی وجہ سے جاں بحق ہو گئی تھیں۔
ڈاکٹر اسماء مشتاق جو کہ بنیادی طور پر برطانیہ میں مقیم گائناکالوجسٹ اور لاہور سے تعلق رکھتی تھیں، اسپانتک چوٹی پر 6,400 میٹر کی بلندی پر آکسیجن کی کمی اور ہائی الٹیٹیوڈ سکنڈری پیچیدگیوں کا شکار ہو کر انتقال کر گئیں۔ ان کی لاش کو بیس کیمپ سے نیچے لانے کے لیے مقامی کوہ پیماؤں پر مشتمل ایک ٹیم روانہ کی جا چکی ہے اور ان کے اہل خانہ بھی سکردو پہنچ چکے ہیں۔ یہ دونوں واقعات پاکستان کے بلند و بالا پہاڑوں پر کوہ پیمائی کے شدید خطرات اور ان چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں جن کا سامنا دنیا بھر سے آنے والے مہم جوؤں کو کرنا پڑتا ہے۔