LIVE
Loading Breaking News...

ہیومنائڈ روبوٹس کا چیٹ جی پی ٹی لمحہ، یونیتری کے بانی کا بیان

News Image
چینی کمپنی یونیتری روبوٹکس کے بانی وانگ ژنگ ژنگ نے کہا ہے کہ ہیومنائڈ روبوٹس کے لیے حقیقی معنوں میں 'چیٹ جی پی ٹی' جیسا انقلابی لمحہ آنے میں ابھی تقریباً دس سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات چین کے شہر ژیان میں منعقدہ ورلڈ انٹرنیٹ کانفرنس کے موقع پر کہی۔
چین کے شہر ژیان میں منعقدہ ورلڈ انٹرنیٹ کانفرنس کے ڈیجیٹل سلک روڈ ڈویلپمنٹ فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف روبوٹکس کمپنی یونیتری کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر وانگ ژنگ ژنگ نے کہا ہے کہ ہیومنائڈ روبوٹس کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا اصل 'چیٹ جی پی ٹی لمحہ' ابھی کم از کم ایک دہائی دور ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ روبوٹکس کی صنعت میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، تاہم حقیقی مصنوعی ذہانت اور ہیومنائڈ روبوٹس کی روزمرہ زندگی میں مکمل ہم آہنگی کے لیے تکنیکی چیلنجز کو عبور کرنا ہوگا۔ وانگ ژنگ ژنگ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں انسان نما روبوٹس کی تیاری اور ان میں مصنوعی ذہانت کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ چٹ جی پی ٹی کی آمد کے بعد جس طرح جنریٹو اے آئی نے پوری دنیا میں تہلکہ مچایا تھا، اسی طرح کا کوئی بڑا بریک تھرو روبوٹکس کے شعبے میں متوقع ہے لیکن اس کے لیے ابھی مزید تحقیق اور وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روبوٹس کو انسانوں کی طرح پیچیدہ ماحول میں فیصلے کرنے اور کام انجام دینے کے قابل بنانے کے لیے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دونوں سطح پر مزید انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دہائی کے دوران روبوٹکس اور اے آئی کا انضمام تیزی سے بڑھے گا، لیکن تجارتی سطح پر وسیع پیمانے پر انسان نما روبوٹس کی دستیابی اور ان کی کارکردگی کو چیٹ جی پی ٹی جیسیہ مقبولیت ملنے میں ابھی چند سال مزید لگ سکتے ہیں۔ اس دوران یونیتری جیسی کمپنیاں مسلسل جدید ماڈلز متعارف کرا رہی ہیں تاکہ روبوٹس کی نقل و حرکت اور صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے۔