Technology
پرنিতা پاٹیل اور ان کی ڈھائی ارب ڈالر مالیت کی اے آئی ہیلتھ کیئر کمپنی
پرنিতা پاٹیل نے صحت کے نظام کی خامیوں سے متاثر ہو کر 'فنکشن' نامی حفاظتی صحت کا پلیٹ فارم بنایا۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کی حامل اس کمپنی کی مالیت اب ڈھائی ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے دنیا بھر میں انقلاب برپا کر رکھا ہے اور اب اس شعبے میں نوجوان کاروباری شخصیات حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہی ہیں۔ ایسی ہی ایک متاثر کن مثال بھارتی نژاد امریکی خاتون پرنিতা پاٹیل کی ہے جنہوں نے دنیا کے معتبر ترین تعلیمی ادارے ہارورد یونیورسٹی کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھی جس کی مالیت اب ڈھائی ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ان کا یہ سفر عزم، ہمت اور جدید ٹیکنالوجی کے درست استعمال کی ایک بہترین علامت سمجھا جا رہا ہے۔
پرنিতা پاٹیل کا یہ سفر اس وقت شروع ہوا جب انہیں ذاتی طور پر روایتی صحت کے نظام کی خامیوں اور حدود کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تجربے نے انہیں اس بات پر مجبور کیا کہ وہ ایک ایسا جامع اور متبادل نظام وضع کریں جو عام انسانوں کو بروقت طبی معلومات اور حفاظتی صحت کی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کر سکے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے 'فنکشن' (Function) نامی ایک جدید ترین حفاظتی صحت کے پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جو جدید ٹیسٹنگ اور مصنوعی ذہانت کو یکجا کرتا ہے۔
'فنکشن' نامی یہ پلیٹ فارم اے آئی کی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے صارفین کو ان کی صحت سے متعلق گہری بصیرت اور ڈیٹا فراہم کرتا ہے تاکہ وہ کسی بھی بڑی بیماری کے لاحق ہونے سے پہلے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔ اس پلیٹ فارم کی انفرادیت اور کامیابی نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ کمپنی ڈھائی ارب ڈالر کی مالیت کے سنگ میل تک پہنچ گئی۔ اس کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ روایتی تعلیمی ڈگریوں کے بجائے مسائل کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت انسان کو بلند مقام پر پہنچا سکتی ہے۔
صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا یہ استعمال آنے والے وقتوں میں مزید انقلابی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پرنিতা پاٹیل کی اس کامیابی نے نہ صرف نوجوان نسل بالخصوص خواتین کو نئے کاروباری عزائم کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اگر عزم سچا ہو تو بڑی سے بڑی رکاوٹ کو بھی کامیابی کی سیڑھی بنایا جا سکتا ہے۔ ٹیک کی دنیا میں ان کے اس کارنامے کو سنہری حروف میں لکھا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کی تحسین کی جا رہی ہے۔