LIVE
Loading Breaking News...

فیری انڈسٹری میں دو رخی بحران: بڑی کمپنیاں آگے، چھوٹی کمپنیاں پیچھے

News Image
فیری انڈسٹری میں بڑی اور چھوٹی کمپنیوں کے درمیان واضح تفریق سامنے آئی ہے جہاں صرف تین بڑے کھلاڑی کل مسافر اور گاڑیوں کی صلاحیت کے بڑے حصے پر قابض ہیں۔ دوسری طرف تیس چھوٹی کمپنیاں اپنے بیڑے کی تجدید کے لیے فنانسنگ حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
عالمی بحری اور سمندری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں فیری انڈسٹری اب ایک واضح دو رخی تقسیم کا شکار ہو چکی ہے، جہاں چند بڑے ادارے مارکیٹ میں مکمل طور پر چھائے ہوئے ہیں جبکہ درجنوں چھوٹے آپریٹرز کو شدید مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت صرف تین بڑی کمپنیاں کل مسافر بردار صلاحیت کے اکسٹھ فیصد سے زائد اور گاڑیوں کی نقل و حمل کی صلاحیت کے انہتر فیصد کے قریب حصے کی مالک ہیں۔ یہ تینوں بڑے کھلاڑی مسلسل اپنے بیڑے کی جدید کاری اور تجدید میں بڑی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ مسابقتی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ اس کے برعکس، انڈسٹری کے اندر تیس دیگر چھوٹی کمپنیاں موجود ہیں جن کے پاس مجموعی طور پر پچہتر بحری جہاز یا کشتیاں ہیں، مگر وہ اپنے بیڑے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے درکار فنانسنگ حاصل کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہیں۔ سرمایہ کاری کے اس فقدان کی وجہ سے یہ چھوٹے آپریٹرز نہ صرف مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں بلکہ بڑی کمپنیوں کے ساتھ مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی سکت بھی کھوتے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور بینکوں کی جانب سے سخت شرائط کے باعث چھوٹے درجے کے فلیٹ مالکان کے لیے نئے بحری جہاز خریدنا یا پرانے جہازوں کی مرمت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ ماہرینِ معیشت اور میری ٹائم انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو فیری مارکیٹ میں اجارہ داری مزید مستحکم ہو جائے گی اور چھوٹے آپریٹرز بتدریج کاروبار سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اس توازن کے بگڑنے سے نہ صرف مسافروں کے لیے کرایوں اور خدمات کے حوالے سے اختیارات محدود ہوں گے بلکہ صنعت کے اندر ملازمتوں کے مواقع پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومتوں اور متعلقہ میری ٹائم اتھارٹیز پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ چھوٹے بحری آپریٹرز کے لیے آسان شرائط پر قرضوں اور سبسڈیز کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ وہ اپنے بیڑوں کی تجدید کر کے مارکیٹ میں زندہ رہ سکیں۔