LIVE
Loading Breaking News...

صومالی بحری قزاقوں کی واپسی، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا اثر

News Image
مشرق وسطیٰ میں امریکی اور ایرانی کشیدگی کے باعث سمندری سکیورٹی کے وسائل کم ہو گئے ہیں، جس سے صومالی بحری قزاقوں کو ایک بار پھر سرگرم ہونے کا موقع مل گیا ہے۔ بین الاقوامی تجارت کے لیے یہ صورتحال ایک نیا چیلنج بن کر ابھری ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور علاقائی محاذ آرائی نے بحیرہ ہند اور بحیرہ احمر میں بحری سکیورٹی کے وسائل پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صومالی بحری قزاقوں نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے، جس سے بین الاقوامی سمندری تجارت کو ایک نیا اور سنگین خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ بحری امور کے ماہرین کے مطابق، اسٹریٹجک بحری گزرگاہوں پر امریکی بحریہ اور اتحادی افواج کی توجہ دیگر تنازعات کی طرف مبذول ہونے کی وجہ سے قزاقوں کے خلاف گشت اور نگران کارروائیاں متاثر ہوئی ہیں۔ دہائیوں کی بین الاقوامی کوششوں کے بعد خلیج عدن اور صومالیہ کے ساحلوں کے قریب بحری قزاقوں کی سرگرمیوں پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا تھا، لیکن موجودہ جغرافیائی سیاسی بحران نے اس کامیابی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جہاز رانی کی صنعت سے وابستہ اداروں کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں پر حملوں کے خطرات میں اضافے کے بعد بحری کمپنیوں کو اپنے روٹس کی حفاظت کے لیے اضافی اخراجات اٹھانا پڑ رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے لیے ایک طرف یمن کے ساحل سے ہونے والے حملوں کو روکنا چیلنج بنا ہوا ہے، تو دوسری طرف صومالیہ کے ساحلوں پر بھی نگرانی کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور بحری سکیورٹی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس صورتحال پر فوری توجہ نہ دی گئی تو قزاقوں کے حملے ماضی کی طرح خطرناک حد تک بڑھ سکتے ہیں۔ تجارتی بحری جہازوں کے کپتانوں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ہائی رسک والے علاقوں سے گزرتے وقت انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور مسلح سکیورٹی گارڈز کو ساتھ رکھیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور بحری تجارت کی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں تنازعات کے ساتھ ساتھ سمندری گزرگاہوں کی حفاظت پر بھی بیک وقت توجہ دیں۔