Business
بھارت میں فیملی آفس اور سرمایہ کاری کے رجحانات
بھارت کا فیملی آفس کا نظام تیزی سے ترقی کر رہا ہے جس کے اثاثے رواں سال ستر ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ اثاثے آئندہ تین سالوں میں ڈیڑھ گنا تک بڑھنے کی توقع ہے جہاں سرمایہ کار نئے اور جدید شعبوں کا رخ کر رہے ہیں۔
بھارت میں فیملی آفس کا نظام انتہائی تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے اور ملک کے دولت مند ترین خاندانوں کے زیر انتظام اثاثے رواں سال ستر ہزار کروڑ روپے تک تخمینہ لگائے گئے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے تین سالوں کے دوران ان اثاثوں میں ڈیڑھ گنا تک زبردست اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ اس تیز رفتار ترقی کی بڑی وجہ ملک میں نئے کاروباری مواقع اور دولت میں اضافہ ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار روایتی طریقوں کے علاوہ نئے شعبوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بھارت کے امیر ترین خاندان اب روایتی جائیداد اور بینک ڈپازٹس کے علاوہ متبادل سرمایہ کاری کے ذرائع پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ ان متبادل ذرائع میں وینچر کیپیٹل فنڈز، پرائیویٹ ایکویٹی اور تکنیکی جدت سے جڑے اسٹارٹ اپس سرفہرست ہیں۔ ملک کے دولت مند افراد ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں طویل مدت میں بہتر منافع کی گنجائش موجود ہو، بالخصوص ڈیجیٹل اکانومی، مصنوعی ذہانت اور گرین انرجی کے منصوبے سرمایہ کاروں کی اولین پسند بنتے جا رہے ہیں۔
فیملی دفاتر کا یہ بڑھتا ہوا دائرہ کار نہ صرف ان خاندانوں کے لیے بلکہ مجموعی طور پر ملکی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سرمائے کے درست استعمال سے ملک میں نئی صنعتوں کو فروغ مل رہا ہے اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں فیملی دفاتر کا کردار بھارتی معیشت میں مزید مستحکم ہوگا کیونکہ سرمایہ کار اب عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے پورٹ فولیو کو متنوع بنا رہے ہیں۔