Technology
مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کی غلطیوں سے کیسے بچیں
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کی ہوس اور خوف کی وجہ سے اندھا دھند آٹومیشن کے رجحان پر ماہرین نے خبردار کیا ہے۔ کاروباری اداروں کو چاہیے کہ وہ ہر عمل کو خودکار بنانے سے پہلے اس کی حقیقی افادیت اور حکمت عملی کا جائزہ لیں۔
ڈیپوپس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ کس طرح بعض اوقات ہر مسئلے کا حل محض آٹومیشن کو سمجھ لیا جاتا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب انجینئرنگ کے تمام مسائل کے لیے 'سب کچھ خودکار کرو' کا نعرہ عام تھا اور اسے تمام مشکلات کا واحد علاج تصور کیا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات واضح ہوئی کہ اندھا دھند اور بغیر سوچے سمجھے کی گئی آٹومیشن اکثر فوائد کے بجائے پیچیدگیاں اور نئے مسائل پیدا کر دیتی ہے۔ آج کل مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے حوالے سے بھی کچھ ایسا ہی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔
آج جب بھی کوئی نئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں آتی ہے تو کمپنیوں میں یہ خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر انہوں نے اسے فوری طور پر نہیں اپنایا تو وہ پیچھے رہ جائیں گے۔ اس کیفیت کو 'اے آئی فومو' کہا جا رہا ہے، جس کے تحت کاروباری ادارے اور ادارے بغیر کسی واضح حکمت عملی کے ہر عمل کو اے آئی پر منتقل کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ یہ وہی پرانی غلطی ہے جو ماضی میں روایتی آٹومیشن کے نام پر دہرائی جاتی رہی ہے۔ ہر عمل کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی ہر جگہ اس کا کوئی حقیقی کاروباری فائدہ ہوتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اداروں کو ٹیکنالوجی کی اس اندھی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے پہلے اپنی حقیقی ضروریات اور چیلنجز کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔ کسی بھی نظام میں مصنوعی ذہانت یا خودکار طریقہ کار کو شامل کرنے سے پہلے اس کے طویل مدتی اثرات، اخراجات اور افادیت کا تخمینہ لگانا انتہائی ضروری ہے۔ صرف اس لیے کسی ٹیکنالوجی کو اپنے سسٹمز کا حصہ نہ بنائیں کہ مارکیٹ میں اس کا چرچا ہے، بلکہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ آپ کے کام کے معیار اور پیداواری صلاحیت میں حقیقی بہتری لائے گی۔
حکمت عملی پر مبنی سوچ اور بتدریج نفاذ ہی کسی بھی نئے رجحان کے منفی اثرات سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگر ادارے جذباتی فیصلوں کے بجائے سوچے سمجھے لائحہ عمل کے تحت قدم اٹھائیں گے تو وہ وسائل کے ضیاع سے بچ سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت بلاشبہ ایک انقلابی ٹیکنالوجی ہے، لیکن اس کا موثر استعمال صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اسے ضرورت کے مطابق اور درست سمت میں بروئے کار لایا جائے۔