World
ایران کا ٹرمپ کی اقتصادی دھمکیوں پر ردعمل
ایرانی حکام نے امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر ممکنہ اقتصادی پابندیوں اور تنہائی کے خطرات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چین اور روس جیسی معیشتیں ان دباؤ کی پالیسیوں کے اثرات کو کم کرنے میں ایران کی مدد کر سکتی ہیں۔
ایران نے امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی 'اقتصادی قیامت' اور معاشی تنہائی کی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ تہران کی جانب سے یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر یہ بحث جاری ہے کہ آیا واشنگتن کی نئی انتظامیہ تہران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بجائے سخت معاشی دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کرے گی۔ امریکی دھمکیوں کا مقصد ایران کے تجارتی راستوں کو بند کرنا اور اس کی معیشت کو مفلوج کرنا ہے تاکہ اسے عالمی سطح پر بالکل الگ تھلگ کیا جا سکے۔ تاہم، ایرانی قیادت اور اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو ان دباؤ سے نمٹنے کا طویل تجربہ حاصل ہے اور اب حالات ماضی کے مقابلے میں مختلف ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس صورتحال میں چین اور روس کا کردار انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ بیجنگ اور ماسکو کی جانب سے تہران کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات کا جاری رہنا امریکی پابندیوں کے اثرات کو کافی حد تک زائل کر سکتا ہے۔ چین ایران کے تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے موجود ہیں جو اس طرح کے اقتصادی دباؤ کے خلاف ڈھال کا کام کرتے ہیں۔ دوسری جانب، روس کے ساتھ بھی ایران کے دفاعی اور تجارتی روابط میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی سیاست کے تناظر میں، ماہرین یہ بھی نوٹ کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کے لیے ایران کو مکمل طور پر عالمی تجارت سے کاٹ دینا آسان نہیں ہوگا۔ اگرچہ یہ پابندیاں ایرانی معیشت کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں، لیکن تہران کا اصرار ہے کہ وہ متبادل تجارتی راستوں اور علاقائی شراکت داریوں کے ذریعے ان تمام چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرے گا۔