Technology
پودوں کی حسیت اور ذہانت پر اہم سائنسی مقالہ
سائنسدانوں نے پودوں کی ذہانت اور اندرونی حسیت کے حوالے سے نئی تحقیق کا آغاز کیا ہے۔ یہ مطالعہ اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ آیا پودے بھی ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں اور درد کو محسوس کرتے ہیں۔
پودوں کی دنیا ہمیشہ سے انسانوں کے لیے تجسس کا مرکز رہی ہے۔ صدیوں تک پودوں کو محض بے حس جاندار سمجھا جاتا رہا جو سورج کی روشنی اور پانی کے محتاج ہوتے ہیں، لیکن جدید سائنسی تحقیق نے اس فرسودہ تصور کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ مطالعات سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ پودے نہ صرف اپنے ماحول سے مکمل طور پر آگاہ ہوتے ہیں بلکہ ان میں ایک خاص قسم کی ذہانت اور حسیت بھی پائی جاتی ہے۔ معروف مفکر رالف والڈو ایمرسن کے مطابق پودے اس دنیا کے نوجوان ہیں جو مسلسل شعور کی طرف سفر کر رہے ہیں۔
گزشتہ ایک صدی کے دوران سائنسدانوں نے اس شعبے میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پودے مختلف کیمیائی سگنلز کے ذریعے آپس میں رابطہ کرتے ہیں۔ جب کسی پودے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے یا کوئی کیڑا اس کے پتے کھاتا ہے، تو وہ پودا ایک مخصوص کیمیائی مادہ خارج کرتا ہے جو اردگرد کے پودوں کو خبردار کر دیتا ہے۔ اس دفاعی نظام کو دیکھ کر ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا اس عمل کو جانوروں کی طرح درد کا احساس یا شعوری ردعمل کہا جا سکتا ہے یا نہیں۔
اگرچہ پودوں میں اعصابی نظام اور دماغ موجود نہیں ہوتا، لیکن ان کے خلیات میں برقی سگنلز سفر کرتے ہیں جو جانوروں کے نظامِ عصبی سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پودوں کے پاس بھی ایک ایسا نظام موجود ہے جو انہیں خطرے سے خبردار کرتا ہے اور انہیں اپنے دفاع کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس حیرت انگیز دریافت نے بوٹینیکل سائنس کے دروازے نئے زاویوں کے لیے کھول دیے ہیں اور سائنسدان اس پراسرار دنیا کو مزید گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔