LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے بجلی مہنگی

News Image
مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی تیز رفتار ترقی نے امریکہ میں بجلی کی کھپت میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔ عام شہریوں کو اب اس تکنیکی انقلاب کے اثرات اپنے ماہانہ بجلی کے بلوں کی صورت میں بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
امریکہ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے انقلاب نے جہاں ایک طرف دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے نئے دروازے کھولے ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے اثرات اب عام شہریوں کی روزمرہ زندگی پر بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ فیڈرل ریزرو بینک آف ڈیلاس کی حالیہ تحقیق کے مطابق امریکی شہریوں کو جلد ہی اپنے ماہانہ بجلی کے بلوں میں اس کا بوجھ اٹھانا پڑے گا، جو کہ اب ناقابلِ گریز بنتا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ملک بھر میں ڈیٹا سینٹرز کا جال بچھایا جا رہا ہے، جنہیں چلانے کے لیے انتہائی زیادہ مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے۔ ان ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار بھاری بجلی کی فراہمی نے ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی کمپنیاں بڑی بڑی اے آئی ماڈلز کی تربیت اور ڈیٹا پروسیسنگ کے لیے مزید سرورز اور ہارڈ ویئر نصب کر رہی ہیں، ویسے ویسے بجلی کی مجموعی طلب میں حیرت انگیز اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بڑھتی ہوئی لاگت کا بوجھ بالآخر عام صارفین پر منتقل کرنا پڑ رہا ہے، جس سے گھریلو صارفین کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات اور توانائی کے شعبے کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو منظم نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں بجلی کے بل مزید بلند ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف جہاں اے آئی کو معیشت کا مستقبل قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اس سے وابستہ توانائی کے بحران نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ وفاقی اداروں کی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس نئے دور میں کاربن کے اخراج اور توانائی کی بچت کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں جن سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔