LIVE
Loading Breaking News...

منڈیونیم: بیسویں صدی کا تاریخی انٹرنیٹ اور انڈیکس کارڈز کا عجوبہ

News Image
بیلجیم کے شہر مونس میں واقع منڈیونیم بیسویں صدی کے آغاز میں معلومات کو یکجا کرنے کا ایک انوکھا اور تاریخی منصوبہ تھا۔ اس ادارے نے جدید انٹرنیٹ کی آمد سے بہت پہلے کروڑوں انڈیکس کارڈز کے ذریعے انسانی علم کو ایک جگہ محفوظ کرنے کی کوشش کی تھی۔
اگر آپ اپنے دوستوں یا اہل خانہ کے سامنے بیلجیم کے شہر مونس میں واقع 'منڈیونیم' (Mundaneum) کے دورے کی تجویز رکھیں، تو شاید آپ کو زیادہ پرجوش ردعمل نہ ملے۔ یہ ایک بدقسمتی کی بات ہے کیونکہ اس طرح کا تجربہ ان تمام جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں آپ کے نظریے کو یکسر بدل سکتا ہے جنہیں ہم آج روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ منڈیونیم کوئی عام عجائب گھر نہیں ہے بلکہ یہ بیسویں صدی کے آغاز میں علم و معلومات کو منظم کرنے کی ایک انتہائی دلیرانہ اور تاریخی کوشش کی کہانی سناتا ہے۔ دورِ جدید میں جب ہم انٹرنیٹ اور سرچ انجنوں کی مدد سے دنیا بھر کی معلومات چند سیکنڈوں میں حاصل کر لیتے ہیں، تو ہمیں یہ سب کچھ بہت معمولی لگتا ہے۔ لیکن آج سے ایک صدی قبل، جب کمپیوٹر اور ڈیجیٹل سسٹمز کا وجود نہیں تھا، اس وقت اس ناممکن کام کو ممکن بنانے کے لیے ایک فکری انقلاب کی ضرورت تھی۔ منڈیونیم کی بنیاد بیسویں صدی کے اوائل میں رکھی گئی تھی اور اس کا مقصد دنیا بھر میں چھپی ہوئی تمام معلومات، کتابوں، مقالات اور دستاویزات کو ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھا کرنا تھا تاکہ پوری انسانیت اس سے مستفید ہو سکے۔ اس عظیم الشان مقصد کے حصول کے لیے اس وقت کے محققین اور ماہرین نے کروڑوں انڈیکس کارڈز کا استعمال کیا۔ یہ کارڈز ایک وسیع و عریض آرکائیو کا حصہ تھے جہاں ہر موضوع، مصنف اور خیال کو ہاتھ سے درج کر کے انتہائی منظم طریقے سے کاتلاگ کیا گیا تھا۔ یہ نظام بظاہر آج کے دور میں انتہائی فرسودہ یا سست لگ سکتا ہے، لیکن اپنے وقت کے لحاظ سے یہ جدید ترین انفارمیشن سائنس کی ایک بہترین مثال تھی۔ اس نے دراصل آج کے ڈیجیٹل سرچ انجنز اور ورلڈ وائڈ ویب کی بنیادوں کا پیش خیمہ فراہم کیا۔ آج جب ہم منڈیونیم کے تاریخی ہالز میں قدم رکھتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تخیل اور معلومات کو جوڑنے کی خواہش کتنی پرانی ہے۔ یہ ادارہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ٹیکنالوجی صرف سلیکون چپس اور ڈیجیٹل کوڈز کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ معلومات کو ترتیب دینے اور اسے ایک دوسرے تک پہنچانے کی انسانی سوچ کا تسلسل ہے۔ منڈیونیم کا یہ دورہ ہمیں ماضی کے ان گمنام ہیروز کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے ڈیجیٹل ایج سے بہت پہلے ایک 'عالمی انٹرنیٹ' کا خواب دیکھا اور اسے حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کی۔