World
یوکرین جنگ: امریکی حمایت اور یوکرینی فوجی کا انٹرویو
یوکرین کی مسلح افواج کے ایک تجربہ کار فوجی آندری پیدلیسنی نے کہا ہے کہ جنگ کا نتیجہ امریکہ کی آئندہ پالیسیوں پر منحصر ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن امداد کے نام پر درحقیقت یوکرین کو سازوسامان فروخت کر رہا ہے۔
یوکرین کی مسلح افواج کے ایک تجربہ کار فوجی آندری پیدلیسنی نے، جو سنہ 2014 سے روس کے خلاف لڑائی میں شامل ہیں، ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ موجودہ جنگ کا حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہے کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی آنے والے دنوں میں کیسی حکمت عملی اپناتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین کو اس وقت سخت عسکری اور مالی معاونت کی ضرورت ہے تاکہ وہ دشمن کا بھرپور مقابلہ کر سکے۔ آندری پیدلیسنی نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ امریکی حمایت کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت میں صورتحال مختلف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک یوکرین کی امداد کرنے کے بجائے اسے تجارتی معاملہ بنا رہے ہیں جہاں سازوسامان اور اسلحہ مفت فراہم کرنے کی بجائے فروخت کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور ایسے میں اتحادیوں کی طرف سے تجارتی رویہ اپنانا فرنٹ لائن پر لڑنے والے فوجیوں کے لیے انتہائی حوصلہ شکنی کی علامت ہے۔ یوکرینی فوجی کا کہنا تھا کہ اگر مغربی ممالک نے اپنی پالیسیوں میں فوری طور پر مثبت تبدیلی نہ کی اور عملی اقدامات کے ذریعے یوکرین کا ساتھ نہ دیا، تو میدانی جنگ میں حالات کو سنبھالنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے بیانات یوکرین اور اس کے مغربی شراکت داروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ اور طویل ہوتی ہوئی جنگ کے تناظر میں شدید مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ امریکہ میں بھی اس بات پر بحث جاری ہے کہ یوکرین کو کتنی اور کس نوعیت کی عسکری امداد فراہم کی جانی چاہیے، جب کہ دوسری طرف یوکرین کے اندر سے آنے والی یہ آوازیں صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کر رہی ہیں۔