Technology
سولر پینلز کے نیچے انگور کی کاشت: اٹلی میں حیرت انگیز زرعی کامیابی
اٹلی کے علاقے پگلیہ میں سولر پینلز کے نیچے اگائی جانے والی انگور کی بیلوں نے سورج کی براہ راست روشنی میں اگنے والی بیلوں کے مقابلے میں ۲۷۷ فیصد زیادہ پیداوار دی۔ اس منفرد زرعی تجربے نے شدید گرم اور خشک علاقوں میں فصلوں کی حفاظت اور پیداوار بڑھانے کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
اٹلی کے جنوبی خطے پگلیہ میں محققین نے زرعی ٹیکنالوجی اور شمسی توانائی کے امتزاج سے ایک ایسا حیرت انگیز تجربہ کیا ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرین زراعت کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔ رواں سال کے دوران یہاں انگور کی بیلوں کو سولر پینلز کے سائے میں اگایا گیا، جس کے نتائج انتہائی مثبت اور امید افزا آئے۔ ان پینلز کے نیچے موجود انگور کی بیلوں نے کھلی دھوپ اور فل سن میں اگنے والی بیلوں کے مقابلے میں دو سو ستتر فیصد (277%) زیادہ انگور پیدا کیے۔ اس انوکھے تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ سائنسی طریقوں سے زمین کا دوہرا استعمال نہ صرف بجلی پیدا کر سکتا ہے بلکہ فصلوں کی پیداوار میں بھی شاندار اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔
اس کامیاب تجربے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سولر پینلز کے ذریعے ملنے والے سائے نے زمین کے درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھا اور مٹی میں نمی کو زیادہ دیر تک برقرار رکھنے میں مدد دی۔ گرم خطوں میں سورج کی تپش فصلوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور پانی کے ضیاع کا باعث بنتی ہے، لیکن پینلز کی موجودگی نے بیلوں کو شدید گرمی سے محفوظ رکھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سایہ دار ماحول کی وجہ سے پودوں کو کم تناؤ کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اپنی تمام تر توانائی بہتر نشوونما اور پھل دینے میں صرف کرنے کے قابل ہوئے۔ اس سے نہ صرف پانی کی بچت ہوئی بلکہ قدرتی وسائل کا بھی بہترین استعمال ممکن ہوا۔
تاہم، محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ طریقہ ہر خطے میں یکساں طور پر مفید ثابت نہیں ہو سکتا۔ سرد آب و ہوا اور کم درجہ حرارت والے علاقوں میں کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں اس طرح کا سایہ فصلوں کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ان علاقوں میں پودوں کو سورج کی بھرپور روشنی اور حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زرعی پینلز یا 'ایگری وولٹیکس' (Agrivoltaics) کا یہ ماڈل موسمی حالات اور خطے کی نوعیت پر منحصر ہے۔
اس تحقیق نے مستقبل کے زرعی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک نئی سمت فراہم کی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں اور خوراک کی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اٹلی کے اس کامیاب تجربے کے بعد دنیا بھر کے سائنسدان اور کسان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح بنجر یا زیادہ گرم زمینوں پر شمسی توانائی کے منصوبوں کے ساتھ زرعی پیداوار کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے، تاکہ خوراک اور توانائی دونوں کی ضروریات کو ایک ساتھ پورا کیا جا سکے۔