LIVE
Loading Breaking News...

میری لینڈ میں ڈیٹا بروکرز کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ، پرائیویسی قوانین کا معاملہ

News Image
میری لینڈ میں سخت ترین ڈیٹا پرائیویسی قوانین کے نفاذ کے باوجود پرائیویسی کے حامیوں نے تجارتی ڈیٹا بروکرز پر قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ان اداروں کی جانب سے شہریوں کا ذاتی ڈیٹا بلا اجازت جمع کرنے اور فروخت کرنے پر تشویش کا اظہار کیا جا रहा ہے۔
امریکہ کی ریاست میری لینڈ میں پرائیویسی اور سول رائٹس کے نامور حامیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کمرشل ڈیٹا بروکرز کے خلاف فوری طور پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کرے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ میری لینڈ نے ملک بھر میں ڈیٹا پرائیویسی کے حوالے سے کچھ سخت ترین دفعات نافذ کی ہیں، تاہم اس کے باوجود تجارتی سطح پر کام کرنے والے ڈیٹا بروکرز مبینہ طور پر ریاستی قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ یہ ادارے عام شہریوں کی حساس معلومات کو بغیر اجازت اکٹھا کر رہے ہیں اور منافع کمانے کے لیے مختلف کمپنیوں کو فروخت کر رہے ہیں۔ پرائیویسی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ ضابطے اتنے مؤثر ثابت نہیں ہو رہے جتنی توقع کی جا رہی تھی۔ ڈیٹا بروکرز جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے افراد کی نجی زندگی، آن لائن رویوں اور ذاتی ترجیحات کا ریکارڈ بناتے ہیں اور اسے قانون کی نظروں سے بچ کر آگے بڑھاتے ہیں۔ اس صورتحال نے عام شہریوں کے بنیادی حقوق اور ڈیجیٹل تحفظ پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جس کے بعد اب ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس گھناؤنے کاروبار کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس پر سختی سے عمل درآمد کرانا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اگر میری لینڈ کے متعلقہ حکام نے ان ڈیٹا بروکرز کے خلاف ٹھوس اقدامات نہ کیے، تو ملک کے دیگر حصوں میں بھی صارفین کا اعتماد ڈیجیٹل سسٹمز پر سے اٹھ سکتا ہے۔ شہریوں کے حقوق کے علمبرداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شفافیت کو فروغ دے اور ایسی تمام غیر قانونی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے جو عوامی پرائیویسی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔