LIVE
Loading Breaking News...

ہیرے پر انتہائی دباؤ کے تجربات اور بیس سال پرانا سائنسی معمہ

News Image
سائنسدانوں نے انتہائی نوعیت کے تجربات کے دوران ہیرے کو نیپچون اور یورینس کے اندرونی دباؤ سے بھی زیادہ دباؤ پر کچل کر دو دہائیوں پرانے سائنسی تنازع کو حل کر لیا ہے۔ یہ نئی دریافتیں سائنسدانوں کو فیوژن انرجی کی پیداوار بڑھانے اور سیاروں کے اندرونی راز جاننے میں مدد فراہم کریں گی۔
نیکسورا نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے انتہائی نوعیت کے تجربات کے دوران ہیرے کو نیپچون اور یورینس جیسے سیاروں کے اندرونی دباؤ سے بھی زیادہ دباؤ پر کچل ڈالا ہے۔ اس اہم کامیابی نے نظریات اور مشاہدات کے درمیان پچھلے بیس سال سے چلے آنے والے تنازع کو بالآخر حل کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں نہ صرف سیاروں کی اندرونی ساخت کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل میں فیوژن انرجی کی پیداوار میں بھی نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ ماضی میں محققین کو ہیرے جیسی سخت ترین مادی حالت پر انتہائی درجے کا دباؤ ڈالنے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ نظریاتی تخمینے اور عملی مشاہدات ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ تاہم تازہ ترین تجربات میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس دباؤ کی حد کو اس سطح تک پہنچایا گیا جو نظام شمسی کے بڑے برفانی سیاروں کی تہوں میں پایا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا کہ انتہائی دباؤ کے تحت ہیرے کی اندرونی ساخت میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور یہ دباؤ مٹیریل کی طبیعیاتی خصوصیات کو کیسے متاثر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج صرف لیبارٹری کی حد تک اہم نہیں ہیں بلکہ ان کے دور رس اثرات توانائی کے شعبے بالخصوص کلین انرجی کے حصول کے لیے کیے جانے والے فیوژن تجربات پر پڑیں گے۔ نیوکلیئر فیوژن کے عمل میں اس طرح کے شدید دباؤ کو برداشت کرنے والے مواد کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ توانائی کے حصول کو مستحکم بنایا جا سکے۔ اس تحقیق کے بعد انجینئرز اور فزسسٹس کے لیے ایسے آلات اور مواد کی تیاری آسان ہو جائے گی جو انتہائی کڑے حالات میں بھی کارآمد رہیں۔ سائنسی برادری نے اس کامیابی کو ایک سنگ میل قرار دیا ہے کیونکہ اس سے مادی علوم کے کئی پرانے سوالات کے جوابات مل گئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ کائنات کے دیگر سیاروں کے اندرونی حالات کو بھی لیبارٹری میں تخلیق کر کے مزید حیرت انگیز حقائق سامنے لائے جا سکیں۔