LIVE
Loading Breaking News...

حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف مہم اور یمن میں کشیدگی

News Image
یمنی حوثی باغیوں نے سعودی عرب اور سرکاری فورسز کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس سے ملک میں ایک بار پھر مکمل جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے دوران مختلف مقامات پر جھڑپوں اور حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
یمنی حوثی باغیوں نے سعودی عرب اور یمنی سرکاری فورسز کے خلاف اپنی عسکری مہم کو مزید تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں یمن ایک بار پھر مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ فنانشل ٹائمز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق، حوثیوں اور حکومتی اتحاد کے درمیان تجارتی اور عسکری مقامات پر حملوں کا سلسلہ بڑھ چکا ہے، جس سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ مغربی یمن میں سرکاری فورسز کے ایک کمانڈر نے بتایا کہ یمنی عسکری دستوں نے حوثیوں کے اہم اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے تاکہ ان کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب، اناتولو ایجنسی کے مطابق یمنی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے طائز کے قریب حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی دراندازی اور گھس بیٹھ کی ایک بڑی کوشش کو کامیابی سے ناکام بنا دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور عسکری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ صورتحال انتہائی نازک موڑ پر داخل ہو چکی ہے۔ میری ٹائم سیکورٹی اور لائڈز لسٹ کی رپورٹس کے مطابق، یمن کے علاقے المکح کے قریب ایک کارگو جہاز کو نامعلوم حملوں میں شدید نقصان پہنچا ہے، جسے بعد میں مکمل طور پر تباہ یا ناقابلِ مرمت قرار دے دیا گیا ہے۔ اس سمندری حملے نے بین الاقوامی بحری تجارت اور سپلائی چین کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مبصرین نے یمن میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک اور تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے۔