LIVE
Loading Breaking News...

خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، امریکی پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کے اثرات

News Image
امریکہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں رسد کے خدشات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث تاجروں کو طویل مدتی قلت کا سامنا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید سخت کرنے کا عزم اور مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ان حالات کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کی رسد کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں اور تاجر کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دو ڈالر تک کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی ترسیل کے حوالے سے مارکیٹ میں بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے، جس نے خریداروں اور تاجروں کو فکرمند کر رکھا ہے۔ اس تعطل کی وجہ سے مارکیٹ میں طویل مدتی بنیادوں پر تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قلت کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر انرجی مارکیٹس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہ راست سیاسی اور عسکری فیصلوں سے جڑا ہوگا۔ اگر امریکہ کی جانب سے تہران پر دباؤ میں مزید شدت لائی گئی تو سپلائی چین متاثر ہونے سے قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔