Pakistan
خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی ملک بدری، قومی اسمبلی میں اعداد و شمار پیش
قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم مارچ تک خلیجی ممالک سے 21 ہزار 951 پاکستانی شہریوں کو ڈیپورٹ کیا گیا۔ سعودی عرب نے سب سے زیادہ 15 ہزار 495 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا جن کی بڑی وجوہات میں غیر قانونی قیام اور منشیات کے جرائم شامل ہیں۔
قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے ایک تحریری جواب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران یعنی یکم مارچ تک مجموعی طور پر 21 ہزار 951 پاکستانی شہریوں کو خلیجی ممالک سے ڈیپورٹ کر کے واپس وطن بھیج دیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار تارکین وطن اور سمندر پار پاکستانیوں کے امور کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جو خلیجی خطے میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے قانونی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ایوان کو بتایا گیا کہ ان تمام افراد کو مختلف وجوہات کی بنا پر متعلقہ ممالک سے نکالا گیا۔ اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے سب سے بڑی تعداد سعودی عرب سے تعلق رکھتی ہے۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق اکیلے سعودی عرب نے 15 ہزار 495 پاکستانی شہریوں کو ڈیپورٹ کیا ہے جو کہ کل تعداد کا ایک بڑا حصہ بنتا ہے۔ خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستانی شہریوں کی ملک بدری کے اس عمل کے پیچھے کئی بنیادی وجوہات کارفرما بتائی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق زیادہ تر افراد ویزا قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی طور پر مقیم رہنے (اوور سٹے) اور مختلف نوعیت کے جرائم بالخصوص منشیات سے متعلقہ مقدمات میں ملوث پائے گئے۔ خلیجی ممالک کی حکومتیں اپنے ملکوں میں قوانین کی سختی سے عملداری کو یقینی بنا رہی ہیں اور ذرا سی غفلت یا قانون شکنی پر غیر ملکیوں کو فوری طور پر ڈیپورٹ کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب اسی عرصے کے دوران بیرون ملک مختلف حادثات اور طبعی وجوہات کی بنا پر 799 پاکستانی شہریوں کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے، جن کی میتیں ضابطہ کار کے تحت پاکستان لائی گئیں۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر اس امر کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو متعلقہ ملک کے قوانین کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے اور سفارتی سطح پر بھی ایسے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو قانونی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔